سپریم کورٹ میں انوکھے کیس کی سماعت کا احوال

اسلام آباد (ویب ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے ایک لاوارث بچی گود لینے کے تنازعہ پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر اور گود لینے والے والدین کو آپس میں بیٹھ کر معاملہ کا حل نکالنے کی ہدایت کی ہے، جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے جمعرات کے

روز تاج حیدر کی ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کی سماعت کی تو جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ ڈھائی سال کی بچی تھی جس کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی آفیسر نے گود لیا ہے،اپیل گزار کو بچی سے کیا انسیت ہے؟جس پر تاج حیدر کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ ان کے موکل نے بچی کو فیس بک پر دیکھا تھا،ان کی اپنی بھی دو بیٹیاں ہیں لیکن وہ اس بچی کی بھی حوالگی چاہتے ہیں، جس پر فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ تاج حیدر صاحب ایک شریف آدمی ہیں، بڑے باپ کے بیٹے ہیں، بچی خود بھی اب سمجھدا ر ہوگئی ہے، ہمارا مشورہ ہے کہ دونوں فریق مل بیٹھ کر فیصلہ کر لیں، اگر تاج حیدر بچی سے مل لیا کریں اور اس کا خرچ اٹھا لیں تو اس میں بچی کا مستقبل سنور جائے گا، بچی کو پالنے والی ہی اس کی والدہ ہیں، بعد ازاں عدالت نے مذکورہ ہدایت کیساتھ سماعت ملتوی کردی ۔

Comments are closed.