سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کے طرز عمل پر سوال اٹھا دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیرِ اعظم عمران خان کے اراکینِ اسمبلی کو فنڈز دیئے جانے کے نوٹس پر سپریم کورٹ آف پاکستان میں سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس کے دوران سوال اٹھایا کہ کیا وزیرِاعظم کا کام لفافے تقسیم کرنا ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان میں وزیرِ اعظم عمران خان کے

اراکینِ اسمبلی کو فنڈز دیئے جانے کے نوٹس پر چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے سماعت کی۔جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے دورانِ سماعت انکشاف کیا کہ مجھے واٹس ایپ میسج موصول ہوا جس میں کچھ دستاویزات ہیں جن کےمطابق این اے 65 کے رکن کو فنڈ دیئے گئے، این اے 65 کا رکن حکومت کی اتحادی پارٹی کا ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ واٹس ایپ والی دستاویزات آپ کی شکایت ہے، اس کا جائزہ لیں گے۔جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ میں شکایت کنندہ نہیں صرف نشاندہی کر رہا ہوں، آپ نے شاید میری بات ہی نہیں سنی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ کافی دیر سے آبزرویشن دے رہے ہیں، بات تو میری نہیں سنی گئی، آپ کے واٹس ایپ پر میسج آیا، آپ شکایت کنندہ ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ ہم دشمن نہیں، چاہتے ہیں کہ آئین پر عمل اور بدعنوان پریکٹس ختم ہو، گزشتہ روز ٹویٹس کی فوج میرے خلاف رہی، اس کا ذکر نہیں چاہتا، الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ چور اور بدعنوان پریکٹس روکے، میرا نہیں خیال آرٹیکل 248 سیاست کے متعلق وزیرِ اعظم کو تحفظ دیتا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا وزیرِ اعظم کا کام لفافے تقسیم کرنا ہے؟ وزیرِاعظم نے کہا کہ 5 سال کی مدت کم ہوتی ہے، آئین پر یقین رکھنے والوں کو تحفظات ہیں۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہم وزیرِاعظم آفس کو کنٹرول نہیں کر رہے۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیرِاعظم عمران خان بیان جمع کرا چکے ہیں کہ میڈیا میں چلنے والی خبر درست نہیں۔عدالتِ عظمیٰ نے کہاکہ پنجاب اور سندھ جواب جمع کرا چکے ہیں۔اٹارنی جنرل پاکستان نے وزیرِ اعظم سے جواب مانگنے پر اعتراض کر دیا۔

Comments are closed.