سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال نے حیران کن بات کہہ ڈالی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)عدالت عظمیٰ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے بر طرف جج، شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے اپنی برطرفی کے خلاف دائر کی گئی آئینی درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے آبزرویشن دی ہے کہ ریاستی اداروں کے خلاف تقریر کیلئے اظہار رائے کے حق کا جواز تسلیم نہیں کیا جاسکتا ہے ،

انہوں نے شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے ریما رکس د یئے ہیں کہ آپ کے موکل کی تقریر کے دفاع میں آپ کے پاس اظہار رائے کے حق کا جواز ہے، لیکن ہمیں بتائیں کہ ایک جج کے اظہار رائے کا حق کس حد تک ہوسکتاہے؟ جج گوشہ نشین لوگ ہوتے ہیں جو عوام میں آکر الزامات کے جواب نہیں دے سکتے ہیں،زیر غور کیس میں ہمیں ججوں کے کوڈ آف کنڈکٹ کو دیکھنا ہوگا،درخواست گزار نے خود تسلیم کیا ہے کہ وہ آئی ایس آئی کے افسران کے سا تھ اپنے گھر میں ملے تھے اورایک نہیں تین تین ملاقاتیں ہوئی تھیں،گھر میں ہونے والی ان ملاقاتوں پر بھی ان کی پوزیشن واضح کریں ا ور بینچ کو مطمئن کریں، جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال اٹھایاہے کہ جب سپریم جوڈیشل کونسل کی تمام کارروائی مکمل ہو جائے تو کیا اس کے بعد کونسل کی سفارشات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے؟جبکہ جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل نے کہا ہے کہ خصوصاً اس صورت میں جب ان سفارشات پر عملدرآمد بھی ہوچکا ہو؟ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل سے متاثرہ کسی جج کے لیے داد رسی کا کوئی فورم ہی نہیں ہے،اگر داد رسی کا فورم نہ ہو تو سپریم کورٹ ایسے معاملات پر حق سماعت رکھتی ہے ،جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس سردار طارق مسعود،جسٹس اعجازالاحسن،جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی تو درخواست گزار شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے کی جانے والی متنازعہ تقریر بلند آواز میں پڑھ کر سنائی ، جس پرجسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ نے جو تقریر پڑھی ہے اس میں عدلیہ کے بارے میں انتہائی منفی تاثر دیا گیا ہے، کھل کر بات کرنے کی آڑ میں جو منہ میں آئے بولنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے، تمام جج ضمیر کے قیدی ہیں اور انصاف فراہم کرنے کیلئے کام کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *