سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال نے نیب والوں کو جھاڑ پلا دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک)سپریم کورٹ نے جعلی بنک اکاؤنٹس کیس میں ڈاکٹر ڈنشا اور جمیل بلوچ کی ضمانت کی درخواستوں پر چیئرمین نیب سے ملزمان کی عدم گرفتاری کی وجوہات طلب کر لیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے کہاکہ

چیئرمین نیب کس اتھارٹی سے ملزمان کی گرفتاری سے متعلق فیصلہ کرتے ہیں۔ جسٹس مظاہر علی اکبری نقوی نے کہاکہ 25 ملزمان میں سے صرف 4 کو کیوں پکڑا گیا۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ جو مرکزی ملزمان ہیں انکو پکڑا گیا ہے۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ نیب آنکھیں اور کان بند کر لے تو کچھ نہیں نظر آتا۔ انہوں نے کہاکہ کچھ جگہوں پر نیب کے پر جلتے ہیں، سب کو پتا ہے کہ عمارت کس کی ہے۔ جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی نے کہاکہ ڈاکٹر ڈنشا 20 ماہ سے قید میں ہے ابھی تک چارج بھی فریم نہیں ہوا۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ ہم نیب تحقیقات کی شفافیت پر بات کر رہے ہیں۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ ہمیں تشویش ہے کہ نیب کچھ ملزمان کو گرفتار کیوں نہیں کر رہا۔

Comments are closed.