سپر پاور امریکہ ہی رہے گا اور اسکی ایک وجہ ہے ۔۔۔۔

کراچی (ویب ڈیسک)پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ تالبان کی فتح پر پاکستان میں جشن کا بین الاقوامی سطح پر اچھا تاثر نہیں گیا، امریکی مطالبات پر ردعمل پارلیمنٹ میں طے ہونا چاہئے، ٹی ٹی پی کو معافی دینے کی بات بدامنی کے خلاف لڑائی کی ہزاروں قربانیوں کی تضحیک ہے،

شرپسندوں کو معاف کرنے کا حق صرف قربانیاں دینے والوں کے ورثاء کو حاصل ہے۔وہ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب بھی شریک تھے۔امجد شعیب نے کہا کہ امریکا تالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا ، امریکیوں کو ڈو مور کی بیماری ہے انہیں ایک کام کردیں وہ دوسرا کام پکڑادیتے ہیں، امریکا کو ایئراسپیس دیدیں اس کے بعد بھی آئی ایم ایف اور فیٹف سے چھٹکارا نہیں ملے گا، حکومت نے کارسرکار چلانا ہے تو اپوزیشن کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ رکھنا ضروری ہے، افغان تالبان نے سانحہ آرمی پبلک اسکول پر بھی ٹی ٹی پی کی مذمت نہیں کی تھی۔میزبان سلیم صافی نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امریکا کو بہت بری شکست ہوئی،افغانستان میں شکست پر امریکی سینیٹ کی ڈیفنس کمیٹی میں جو جوابدہی ہوئی اور چھ گھنٹے پر محیط سوال و جواب ہوئے اس کے بعد یہ یقین مزید پختہ ہوگیا ہے کہ اس شکست کے بعد بھی امریکا سپرپاور رہے گا اور اس کا انجام کبھی بھی سوویت یونین جیسا نہیں ہوسکتا، جس قوم کے ہاں احتساب کا اتنا مضبوط نظام ہو، جس قوم کے ہاں اس طرح سوال اٹھائے جاتے ہوں اور اس برملا طریقے سے اپنی غلطیوں کا اعتراف پوری دنیا کے سامنے کیا جاتا ہو وہ اتنی جلدی سپرپاور کی پوزیشن سے ہٹ نہیں سکتی۔ سلیم صافی کا کہنا تھا کہ میں پاکستانی سیاستدانوں خصوصاً پارلیمنٹرینز کو تجویز دوں گا تقریباً چھ گھنٹے پر محیط جو مباحثہ ہے یا امریکی سیکرٹری ڈیفنس، امریکی جوائنٹ چیف اور امریکی سینٹرل کمانڈ کی testimony ہے وہ انہیں ضرور دیکھنا چاہئے۔پروگرام میں افغانستان میں شکست پر امریکی سیاستدانوں اور جرنیلوں کے سنسنی خیز ٹاکرے کے منتخب حصے بھی دکھائے گئے۔دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ امریکا تالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا نہ ہی معاملات ٹھیک کرے گا، امریکا کی کوشش ہوگی کہ خطے کے ممالک بھی نئی افغان حکومت تسلیم نہیں کریں، امریکا روس اور چین کی مشکلات بڑھانے کیلئے افغانستان کو غیرمستحکم رکھنا چاہے گا، افغانستان میں امریکا کی پراکسیز موجود ہیں انہیں یہ استعمال کریں گے۔

Comments are closed.