سچی اور کھری سیاست کرنے والا گھرانہ :

لاہور (ویب ڈیسک) کل پاکستان ایک عظیم سیاستدان سے محروم ہو گیا سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی راولپنڈی میں انتقال کر گئے ۔ میر ظفر اللہ جمالی کا خاندان ایک پرانا مسلم لیگی گھرانہ تھا ۔ ان کے چچا جعفر خان جمالی محمد علی جناح اور بعد میں ان کی بہن فاطمہ جناح کے بہت قریب رہے۔

ظفر اللہ جمالی نے ایک بار دعویٰ کیا کہ ان کے چچا نے فاطمہ جناح کو رضامند کیا تھا کہ وہ ایوب خان کے خلاف انتخاب لڑیں جبکہ اس سے قبل وہ خواجہ ناظم الدین اور حسین سہرودری کو اس ضمن میں انکار کر چکی تھیں۔میر ظفر اللہ جمالی نے فاطمہ جناح کے انتخابی دورے کے وقت ان کے گارڈ کے طور پر بھی فرائض سر انجام دیے اور بعد میں ان کے پولنگ ایجنٹ بھی مقرر ہوئے۔روجھان جمالی کے جمالی خاندان کی سیاسی شناخت جعفر خان جمالی تھے۔ ان کی وفات کے بعد یہ ذمہ داری میر ظفراللہ جمالی نے سنبھالی اور پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ ظفراللہ جمالی نے اس شمولیت کے بارے میں کہا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو چچا کی تعزیت کے لیے آئےتھے اور والد کے کہنے پر انھوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔1970 کے انتخابات میں انھیں سردار چاکر خان نے شکست دی اس کے بعد وہ 1977 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے، جنرل ضیاالحق نے جب مارشل لا نافذ کیا تو وہ ان سیاست دانوں میں شامل تھے جنھوں نے جنرل ضیاالحق کا ساتھ دیا۔1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ان کو پانی و بجلی کی وزارت دی گئی جب جنرل ضیاالحق نے محمد خان جونیجو حکومت کو برطرف کر دیا تو انھیں بلوچستان کا وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ سنہ 1988 میں دوبارہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیراعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئے۔اس کے بعد وہ ہر اس سیاسی جماعت میں شامل رہے جو حکومت میں رہی، اس دوران انہوں نے مسلم لیگ ، مسلم لیگ ق اور حالیہ دنوں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.