سکاٹ لینڈ کرکٹ ٹیم کی شرٹ ڈیزائن کرنے والی 12 سالہ بچی کا تعارف

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی عبدالرشید شکور بی بی سی کے لیے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کرکٹ کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہے جس میں شائقین کو صرف اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کی کارکردگی کے بارے میں ہی جاننے میں دلچسپی نہیں ہوتی بلکہ انھیں ان کی ذاتی زندگی کے بارے

میں بھی بہت کچھ جاننے کا تجسس رہتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ میدان سے باہر کیا ہو رہا ہے اس میں بھی لوگوں کی دلچسپی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے مقابلے ان دنوں متحدہ عرب امارات اور عمان میں جاری ہیں۔ کھیل اور کھلاڑی اپنی جگہ لیکن کئی دوسرے پہلو بھی اس وقت سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں مثلاً اس عالمی ایونٹ میں شریک ٹیموں نے جو ِکٹ پہن رکھی ہے اسے کس نے ڈیزائن کیا اور اسے کس طرح تیار کیا گیا۔اس معاملے میں سکاٹ لینڈ کی کرکٹ ٹیم سب پر بازی لے گئی ہے۔ اس کے کھلاڑی جس کٹ کو پہن کر عالمی مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں اس پر سب سے زیادہ بات ہو رہی ہے اور اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ یہ ِکٹ ایک بارہ سال کی طالبہ نے ڈیزائن کی ہے۔کرکٹ سکاٹ لینڈ کے مارکیٹنگ اور کمیونیکیشن شعبے کی سربراہ ایڈریانا رائٹ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے ِکٹ ڈیزائن کرنے کا مرحلہ اس اس سال مئی میں شروع کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں بچوں کے درمیان مقابلہ کرایا گیا تھا کہ وہ سکاٹ لینڈ کی کرکٹ ٹیم کی کٹ ڈیزائن کریں۔انھوں نے کہا کہ ’اس مقابلے میں سکاٹ لینڈ بھر سے دو سو سے زائد بچوں نے حصہ لیا۔ ایک پینل نے ان تمام ڈیزائنوں کو شارٹ لسٹ کیا اور منتخب کردہ تین ڈیزائن سکاٹ لینڈ کی ٹیم کے سامنے رکھے گئے تھے جس نے متفقہ طور پر

ریبیکا ڈاؤنی کے ڈیزائن کو پسند کرتے ہوئے منتخب کیا تھا۔‘ایڈریانا رائٹ کا کہنا ہے کہ ’اس ڈیزائن کو سکاٹ لینڈ کی ٹیم کے آفیشل سپلائر گے نکلز کے حوالے کیا گیا جس نے اسے حتمی شکل دی ہے۔‘ایڈریانا رائٹ کہتی ہیں کہ ’بارہ سال کی ریبیکا ڈاؤنی ایڈنبرا کے قریب واقع ہیڈنگٹن کے سکول کی طالبہ ہیں۔ وہ خود بھی شوق سے کرکٹ کھیلتی ہیں اور سکاٹ لینڈ کی کرکٹ ٹیم کی زبردست مداح ہیں۔‘ریبیکا کو گذشتہ ماہ ایڈنبرا میں گراؤنڈ میں جا کر سکاٹ لینڈ اور زمبابوے کا ٹی ٹوئنٹی میچ دیکھنے کا موقع ملا تھا اس موقع پر انھوں نے سکاٹ لینڈ کے کھلاڑیوں سے ملاقات بھی کی تھی۔ایڈریانا رائٹ کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ سکاٹ لینڈ کی ٹیم کی شرٹ کے ڈیزائن کے لیے بچوں کے درمیان مقابلہ کرایا گیا۔انھوں نے بتایا کہ ’اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ سکاٹ لینڈ میں کرکٹ پاکستان کی طرح نمبر ایک کھیل نہیں لہٰذا کرکٹ سکاٹ لینڈ نے یہ مناسب سمجھا کہ بچوں کو اس عمل میں شامل کر کے ان میں کرکٹ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی اور جوش وخروش پیدا کیا جا سکے۔‘ایڈریانا رائٹ کا کہنا ہے کہ ’ریبیکا کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں جانا ممکن نہیں کیونکہ اس وقت عالمی وبا کی صورتحال کی وجہ سے برطانیہ سے باہر سفر کرنا مشکل ہے اور پھر ریبیکا سکول میں مصروف ہیں لیکن انھوں نے سکاٹ لینڈ کی ٹیم کو ایک پیغام ضرور بھیجا ہے جس میں انھوں نے اپنے کرکٹرز

کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔‘سوشل میڈیا پر کرکٹ سکاٹ لینڈ نے جب یہ انکشاف کیا کہ ان کی کٹ ایک 12 سالہ بچی نے تیار کی ہے تو اکثر افراد حیران رہ گئے۔سب سے پہلے تو آئی سی سی کے ٹوئٹر ہینڈل کی جانب سے ان کی تعریف کی گئی۔صارف موہن دساری نے لکھا کہ ایک انتہائی بہترین ڈیزائن ہے۔ پرکشش اور منفرد، خدا اس تخلیقی صلاحیتوں کی مالک بچی پر اپنی رحمت رکھے۔‘ایک صارف نے لکھا کہ ’آپ لوگ مذاق تو نہیں کر رہے ناں۔ ورلڈ کپ کی کٹ ایک 12 سال کی بچی نے ڈیزائن کی۔ کمال ہے۔!‘ان کی بات کے جواب میں ایک صارف پراتیوش انھیں اس کہانی کی تفصیلات بتاتے دکھائی دیے۔کرکٹ میں رنگین کٹ کا آغاز ستر کی دہائی میں کیری پیکر نے کیا جب انھوں نے اپنی شروع کردہ ورلڈ کرکٹ سیریز میں کھلاڑیوں کو پہلی بار 28 نومبر 1978 میں رنگین کٹ میں سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں اتارا۔اس وقت کئی حلقوں نے اس تبدیلی کو مثبت انداز میں نہیں دیکھا اور اسے ’پاجامہ کرکٹ‘ کا نام بھی دیا گیا لیکن سفید گیند سیاہ سائٹ سکرین اور رنگین کٹ آنے والے برسوں میں انٹرنیشنل کرکٹ کا لازمی حصہ بن گئی۔بین الاقوامی کرکٹ میں رنگین کٹ پہلی بار 1992 کے عالمی کپ کے موقع پر دیکھنے میں آئی، اس سے قبل جتنے بھی ورلڈ کپ ہوئے ان میں ٹیمیں روایتی سفید کٹ میں ملبوس ہوا کرتی تھیں۔دسمبر 2000 میں یہ طے پایا کہ تمام ون ڈے انٹرنیشنل رنگین کٹ کے ساتھ کھیلے جائیں گے۔(بشکریہ : بی بی سی )

Comments are closed.