سہیل وڑائچ نے بڑی بات کہہ دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ہر قوم اور ہر قبیلے نے غلطیاں کی ہیں، اِسی طرح ہر قوم اور ہر قبیلے نے اچھے کام بھی کئے ہیں، ہر ایک میں خوبیاں بھی موجود ہیں اور کوتاہیاں بھی۔ پنجاب ہو یا سندھ، بلوچستان ہو یا خیبر پختونخوا، ہر علاقے کی تاریخ کھنگالی جائے

تو کہیں وہ فاتح نظر آئیں گے اور کہیں مقہہور ۔ پنجاب کو بزدلی کا طعنہ دینے والے فاتح عالم سکندر اعظم پورس کو کیوں بھول جاتے ہیں جس نے دریائے جہلم کے کنارے سکندر اعظم کا مقابلہ کیا اور اپنی بہادری کی داد خود سکندرِ اعظم سے وصول کی، ۔بہتر طریقہ یہ ہے کہ گئے وقتوں کے اُن وقتوں کو تاریخ کا دھارا قرار دے دیا جائے، نہ پنجابیوں کو بزدل کہیں نہ افغانیوں کو فاتح۔ یہ تاریخ کا ایک دور تھا، اِس کو تاریخ کی طرح پڑھیں اور اِس سے سبق سیکھیں۔ باقی جو طعنہ انگریزوں کی پشت پناہی کا دیا جاتا ہے، وہ بھی تاریخی حوالے سے درست نہیں ہے۔ پنجابی مسلمان، بالخصوص جاگیردار سکھ دور میں اُلٹ پھیر کا شکار رہے، اِس لئے سکھوں کو شکست ملی تو پنجابی جاگیردار فوراً انگریزوں کے قدرتی حلیف بن گئے مگر سب اِس سوچ کے حامل نہیں تھے۔احمد خان کھرل کا نام کیسے بھولا جا سکتا ہے جس نے ساہیوال اور اوکاڑہ کے علاقے میں انگریزوں کے خلاف علمِ بلند کیا اور انگریز اسسٹنٹ کمشنر برکلے سے باقاعدہ فوج کی طرح مقابلہ کیا اور جب خود جان دی کی تو اُس کے ساتھیوں نے اگلے ہی روز برکلے کو بھی اانجام کو پہنچا دیا اِس علاقے کے لوک گیتوں میں اب بھی اِس لڑائی کے قصے سنے جا سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر پنجابیوں نے انگریز کی اطاعت کی تو بلوچوں، پختونوں اور سندھیوں نے انگریزوں سے کونسی لڑائی جیت لی؟ پنجابی سجادہ نشین اگر پنجاب کے گورنر کو قصیدے پڑھ کر اطاعت گزاری کا یقین دلا رہے تھے تو بلوچ سردار بھی اِس سے دوستی کا حق ادا کر رہے تھے اگر چند پنجابی انگریز کے لئے کام کرتے تھے تو بہت سے پختون بھی یہی کام کر رہے تھے۔ تاریخ کے اِس حمام میں سب ایک جیسے ہیں،

Sharing is caring!

Comments are closed.