سہیل وڑائچ نے بڑی بریکنگ نیوز دے دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔مریم نواز شریف کو اُن کے کسی بہی خواہ نے اطلاع دی ہے کہ انتہائی اعلیٰ سطح پر اُن کو زندگی سے محروم کر دینے کی سازش سوچی جا رہی ہے، اُنہیں شک ہے کہ اُنہیں فضائی حادثے میں پار لگانے یا

پھر سازش سے ہٹا دینے کے بارے میں باتیں کی جا رہی ہیں۔مریم نواز اِس طرح کی اطلاعات کو صرف وارننگ نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی سمجھنے میں حق بجانب ہیں، جب ماحول ہی شک اور سازش کا ہو تو ایسے میں مریم نواز شک کو حقیقت کیوں نہ سمجھیں؟ جب شفافیت نہیں ہوتی، جبر اور ظلم کی دھند چھائی ہوتی ہے تو پھر سوشل میڈیا پر خادم حسین رضوی، جج ارشد ملک اور جسٹس وقار سیٹھ کی موت بھی مشکوک بن جاتی ہے، یہی نہیں قیامِ پاکستان سے لیکر آج تک کے واقعات سازش اور شک کی داغدار چادر سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ جب اداروں پر اتفاقِ رائے نہ ہو، نہ ہی کوئی ضمانتی یا متفق علیہ ہو، ہر کسی کو دوسرے پر شک اور سازش کا گمان ہو تو پھر گھڑمس، تصادم اور کشمکش سے کیسے بچ سکیں گے؟ میری رائے میں کسی ریاست کے جمہوری اور انصاف پسند ہونے کا معیار یہ ہے کہ وہاں اقلیتوں اور مخالفوں کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔مریم نواز کے والد لندن میں، چچا اور چچا زاد بھائی یعنی شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف قید میں ہیں، وہ اپوزیشن کی اہم رہنما ہیں، اکیلی لڑ رہی ہیں، اگر ایسے میں اُنہیں زندگی سے محروم کرنے کی وارننگز دی جا رہی ہیں یا واقعی اُنہیں زندگی سے محروم کرنے کی سازش ہو رہی ہے تو یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ میرے خیال میں تو ریاست کے اعلیٰ ترین عہدیداروں اور وزیراعظم کو خود یہ اعلان کرنا چاہئے کہ مریم نواز کی جان کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے اور جو کوئی، جس بھی سطح پر اس بارے میں سوچ رہا ہے، اُس کا احتساب کرنا چاہئے۔

2 responses to “سہیل وڑائچ نے بڑی بریکنگ نیوز دے دی”

  1. Brother justice for all 😁 is -ive approach now a days. Khan duty to deliver something positive. He became toy and Establishments using him blindly as required. No chance system is moving rapidly just like Turkey . People’s are now realising that some playing Telo with them since long….. Democracy is under the shelter of dictatorship.

  2. محمد رضوان says:

    جب حکومتی ادارے کی جانب سے الرٹ جاری ہو جائے کہ . پی ڈی ایم کے رہنماوں پر قاتلانہ حملہ ہو سکتا ہے اور پھر اچانک ہی وزیر داخلہ بھی تبدیل ہو جائے تو اس کا مطلب کہ کوئی کہانی لکھی گئی ہے جس پہ فلم بننے جارہی ہے