سہیل وڑائچ نے پھر وارننگ جاری کردی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پی ڈی ایم کی تحریک کا پہلا مرحلہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ جلسے اور جلوسوں میں جس قدر عوامی شمولیت کی توقع تھی وہ پوری نہیں ہوئی مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ملک میں

سب ٹھیک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پی ڈی ایم کی ناکامی کے باوجود معاشرے میں ہرطرف حکومت کے خلاف اضطراب موجود ہے۔حال ہی میں صوبائی حکومت کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پچھلے ماہ کے صرف 21دنوں میں 653احتجاجی جلسے اور جلوس منعقد ہوئے ہیں۔ کبھی سرکاری ملازمین، کبھی نرسیں، کبھی ڈاکٹر، کبھی بجلی کے صارفین اور کبھی مہنگائی سے تنگ آئے لوگ باہر نکل کر احتجاج کر رہے ہیں۔کوئی سروے کیا جائے یا عوامی جائزہ لیا جائے تو تاجروں سے لے کر مزدوروں تک ہر کوئی اپنی معاشی حالت پر مضطرب ہے۔ ہر طرف اس اضطراب کی وجہ کیا ہے؟ظاہر ہے کہ ہر کوئی اپنے حالات سے غیرمطمئن ہے اور شاید اس لئے غیرمطمئن ہے کہ اس کے خیال میں اسے جو ملنا چاہئے تھا وہ مل نہیں رہا یا جو خواب اسے دکھائے گئے تھے یا اس نے خود ہی دیکھ لئے تھے، وہ پورے ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ جب معاشرے میں اس طرح کا عمومی اضطراب ہو تو عوامی احتجاج کا ماحول پیدا کرنے کے لئے بس ایک دیا سلائی دکھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔حکومت خوش قسمت ہے کہ اہلِ سیاست کو ابھی وہ تیل اور دیا سلائی نہیں مل سکی جو اس اضطراب کو انقلاب اورعوامی احتجاج میں تبدیل کرنے کے لئے ضروری ہے۔اضطراب پیدا کیوں ہوتا ہے؟ جب آپ کو اپنی امید اور توقع سے کم ملے تو اضطراب شروع ہو جاتا ہے، جب آپ کو لگے کہ آپ کی محنت اور کوشش کے باوجود آپ کو وہ نہیں مل رہا جس کا وعدہ تھا، تو پھر اضطراب جنم لیتا ہے۔

اس وقت ہر طرف یہی صورتحال نظر آ رہی ہے۔ دراصل وعدے اس قدر بلند بانگ اور امیدیں بہت زیادہ تھیں لیکن عملدرآمد بہت ہی کم ہوا ہے۔ وعدوں اور عملدرآمد میں خلا اور تفریق ہی اضطراب کی اصل وجہ ہے۔معاشرے میں جس ٹھہرائو، سکون یا اطمینان کی توقع تھی وہ دور دور تک نظر نہیں آ رہا۔ کسی بھی حکومت کا بنیادی فرض یہ ہے کہ وہ عوام کو اطمینان اور سکون کی دولت سے مالامال کرے اور ان کی امیدوں پر حتیٰ الوسع پورا اترنے کی کوشش کرے۔ ظاہر ہے ایسا نہیں ہو رہا اسی لئے اضطراب ہے۔اس معاملے کا مثبت پہلو دیکھا جائے تو وہ یہ ہے کہ حکومت کی آدھی ٹرم مکمل ہونے کے باوجود لوگوں کی امیدیں ابھی مکمل طور پر ٹوٹی نہیں ہیں۔ وہ مضطرب ہیں، ناراض ہیں لیکن مکمل طور پر روٹھے نہیں ہیں کیونکہ انہیں اب بھی امید ہے کہ حکومت ان کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کرے گی۔یہ جلسے جلوس، یہ احتجاج، حکومت کو جھنجھوڑنے اور توجہ دلانے کے لئے ہیں اگر حکومت نے ان جلسے جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں کا اثر قبول نہ کیا، عوامی اضطراب کا خیال نہ کیا تو پھر اگلا مرحلہ ناراضی اور مخالفت کا ہوتا ہے۔ابھی عوامی موڈ ایسا نہیں ہے کہ حکومت کو اٹھا کر باہر پھینکنے کی بات کی جائے، ابھی مطالبات منوانے کا موسم ہے، ابھی اسی حکومت سے توقعات اور امیدیں ہیں البتہ جب امیدیں مکمل طور پر ٹوٹ جائیں گی پھر غصہ، ناراضی اور ناامیدی جنم لے گی۔تاریخی طور پر دیکھا جائے تو اضطراب تبدیلی کو جنم دیتا ہے۔ اگر اضطراب کا مداوا نہ کیا جائے،

اضطراب کو سکون نہ ملے اور یہ اضطراب بڑھتا جائے تو پھر یہ تبدیلی کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ اضطراب سیاسی وارننگ بھی ہوتا ہے اگر حکمران اضطراب کا توڑ نہ کریں، اضطراب بڑھتا رہے تو آخر کار یہی اضطراب تبدیلی لے آتا ہے۔اضطراب دراصل سیاسی شعور کے اظہار کا ذریعہ ہے اور جب اس اظہار کو مثبت رسپانس نہ ملے تو پھر اس کا رُخ تبدیلی کی طرف مڑ جاتا ہے۔ موجودہ حکومت کو ہر طرف پھیلے اضطراب کو سکون میں بدلنے کے لئے دور رس اقدامات کرنا ہوں گے وگرنہ اگلے الیکشن میں یہی اضطراب غصہ بن کر اس حکومت کے خلاف کام کرے گا۔دنیا بھر کی تحریکوں کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ تحریک پہلے ہی دن آگ کے الائو کی طرح جلتی اور بھڑکتی نہیں بلکہ پہلے چھوٹی چھوٹی چنگاریاں سلگتی ہیں، ان میں ہلکی ہلکی آگ لگتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ یہی چنگاریاں بڑے بڑے انگارے بن کر الائو کی آگ کو تیز کر دیتی ہیں۔ابھی تک کی صورتحال میں جلسے اور جلوس، احتجاج اور مظاہرے چھوٹی چھوٹی چنگاریاں ہیں، حکومت کو چاہئے کہ ان چنگاریوں پر ابھی سے پانی ڈالے تاکہ یہ الائو کی شکل اختیار کر کے حکومت کے لئے خطرہ نہ بنیں۔وزیراعظم عمران خان نے 22سال کوچہ کوچہ، قریہ قریہ جلسے اور جلوس کی سیاست کی ہے، اس لئے وہ عوامی موڈ اور مزاج سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کے جاننے والے بتاتے ہیں کہ عمران خان ہجوم کو دیکھ کر فوراً اس کے موڈ اور تعداد کا اندازہ لگانے کے ماہر ہیں۔امید ہے کہ وزیراعظم تک بھی 21دنوں کے اندر صرف ایک صوبے پنجاب میں 653احتجاجی جلسوں اور جلوسوں کی خبر ضرور پہنچی ہو گی۔

یہ بھی امید ہے کہ وزیراعظم نے ان احتجاجی جلسوں کے اندر عوامی موڈ کا اندازہ بھی لگایا ہو گا اور پھر عوامی اضطراب کو ختم کرنے یا اس کا مداوا کرنے کا بھی کوئی نہ کوئی فارمولہ بنایا ہو گا۔ توقع کرنی چاہئے کہ اس فارمولے پر جلد از جلد عملدرآمد ہو گا تاکہ معاشرے کا اضطراب ختم ہو اور سکون کا دور شروع ہو۔دوسری طرف پی ڈی ایم، تحریک کے دوسرے مرحلے کو شروع کرنے والی ہے۔ اسے بھی ٹھنڈے دل سے ہر طرف موجود عوامی مسائل کا ادراک کرنا چاہئے اور انہی مسائل کو اپنی تحریک کا حصہ بنانا چاہئے۔ کوئی بھی تحریک صرف سیاسی کارکنوں کی شرکت سے کامیاب نہیں ہو سکتی۔صاف بات ہے کہ اگر عام لوگ، کسان، مزدور یا معاشرے کے دوسرے طبقے کسی مہم یا تحریک میں شریک نہ ہوں تو اس کی کامیابی کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ پی ڈی ایم کی تحریک کے پہلے مرحلے میں یہ کمزوری خاص طور پر دیکھنے میں آئی کہ اس میں صرف سیاسی کارکن تھے، عوام، کاشتکار، مزدور، رکشہ ڈرائیور یا طالب علم بطور کلاس کہیں نظر نہیں آئے۔پی ڈی ایم نے اگر کامیاب ہونا ہے تو اسے اضطراب میں مبتلا طبقات سے رابطہ کرنا چاہئے اور پھر انکے ساتھ مل کر اپنے احتجاج کو مربوط کرنا چاہئے۔ جس دن پی ڈی ایم اس میں کامیاب ہو گئی اس دن حکومت کا بولو رام ہو جائے گا جبکہ دوسری طرف حکومت کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ سیاسی جماعتوں اور مضطرب طبقات کا اتحاد نہ ہو پائے اس کے لئے حکومت کو اضطرابی اور احتجاجی طبقات کے مسائل حل کرنے چاہئیں، بالکل ویسے ہی جیسے سرکاری ملازمین کی تنخواہ کا مسئلہ حل کیا گیا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *