سہیل وڑائچ نے پیشگوئی کردی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اِسے خان صاحب کی خوش قسمتی سمجھیں یا پی ڈی ایم کی بدقسمتی کہ اپوزیشن کی تحریک اسمبلی سے نکل کر گلیوں، بازاروں اور میدانوں میں تو آ گئی مگر اس کا رنگ اسمبلی کے فلور والا ہی رہا۔

عمران خان کے خلاف مہم میں مخالفت موجود تھی مگرنفرت موجود نہیں تھی۔ بدقسمتی سے احتجاجی تحریک تبھی چلتی ہے جب اس میں نفرت کا عنصر بدرجہ اتم موجود ہو۔قومی اتحاد نے بھٹو کے خلاف احتجاجی تحریک چلائی تو اس میں نفرت اور غصہ تھا۔ اسے خان صاحب کی خوش قسمتی پر ہی محمول کرنا چاہئے کہ پی ڈی ایم خان صاحب کے خلاف نفرت گھولنے میں ناکام رہی۔جمہوریت کو اگر شائستہ کھیل کی طرح کھیلا جائے تو حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اپنا اختلاف رائے پارلیمان کے اندر رکھنا چاہئے۔ اگر اختلاف رائے سڑکوں اور بازاروں میں آ جائے اور پھر اسے نفرت کا تڑکا بھی لگ جائے تو نفرت کی لہر ابھرنا شروع ہو جاتی ہے۔پی ڈی ایم کی تحریک کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا‘ انہیں اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکامی رہی نہ وہ حکومت کو گرا سکے، نہ اجتماعی استعفے دے سکے اور نہ سینیٹ کا الیکشن رکوا سکے۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پی ڈی ایم کی تحریک مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔ ہو سکتا ہے کہ پی ڈی ایم کی تحریک کا دوسرا مرحلہ اس سے بھی زیادہ خوفناک اورخطرناک ہو۔قومی اتحاد کی تحریک بھی پہلے مرحلے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی کئی مرحلوں کے بعد اسے کامیابی ملی تھی، عمران خان بھی 126دن کے دھرنے کے باوجود حکومت گرانے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے بلکہ مایوس و نامراد ہو کر گھر لوٹے تھے۔ مگر وہ پھر سے اٹھتے اور نیا مرحلہ شروع کرتے رہے، پی ڈی ایم بھی ظاہر ہے ایسا ہی کرے گی۔وزیراعظم کی پانچ سالہ مدت میں سے آدھی مکمل ہونے کو ہے‘ ان کا اڑھائی سالہ دورِ عروج گزر گیا اب اڑھائی سالہ دورِ زوال آ رہا ہے، ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپوزیشن کو پارلیمان کے اندر کی سیاست میں لائیں، ان سے مذاکرات کا ایسا دور شروع کریں جس سے ضروری قانون سازی ممکن ہو سکے۔دوسری طرف پی ڈی ایم بھی اپنی حکمت عملی از سر نو ترتیب دے اگر وہ واقعی حکومت کو گرانے میں سنجیدہ ہے تو عمران خان کے خلاف ایک چارج شیٹ سامنے لائے اور ساتھ ہی ایک چارٹر آف ڈیمانڈز پیش کرے، اسے چاہئے کہ حکومت سے اسے جو بھی شکایات ہیں اور جو بھی اس کے مطالبات ہیں ان کو تحریری طور پر سامنے لائے تاکہ اس کے اوپر سے یہ داغ تو ختم ہو کہ یہ صرف این آر او لینے کی تحریک چلا رہے ہیں۔ریاست پاکستان کے لئے واحد راستہ یہی ہے کہ مفاہمت کی راہ ڈھونڈی جائے، گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی داغ بیل ڈالی جائے۔ حکومت تحریک کے دبائو میں بے دخل نہ ہو بلکہ تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز مل کر اگلے الیکشن کا طریق کار طے کریں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *