سہیل وڑائچ کا ایک جاندار اور انوکھا سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ لاہور اور اسلام آباد کے سیاسی مزاج میں بھی زمین آسمان جتنا فرق ہے۔حتیٰ کہ لاہور اور اسلام آباد میں دیے گئے بیانات تک میں تضاد نظر آتا ہے۔ لاہور میں بیان دیا گیا کہ بزدار نڈر ہوکر کام جاری رکھیں۔ پنجاب میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی۔ دوسری طرف اسلام آباد کے شہرِ بےوفا میں پنجاب کے

متبادل امیدواروں کے حوالے سے میٹنگز جاری ہیں۔ گویا لاہور میں جو کچھ کہا گیا وہ غلط ہے یا جو کچھ اسلام آباد میں ہو رہا ہے وہ غلط ہے۔سب کا اتفاق ہے کہ حتمی فیصلے کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہے۔ تبدیلی کا فیصلہ بھی انہوں نے کرنا ہے اور متبادل کو بھی انہی نے چننا ہے، افواہیں بہت ہیں مگر بزکش کا روحانی کلہ مضبوط ہے روحانی تشریح یہ ہے کہ اگر پنجاب سے عین (عثمان) جاتا ہے تو پھر مرکز کے عین (عمران) کو بھی خطرہ ہوگا اس لئے پنجاب کو نہ چھیڑا جائے ورنہ مرکز میں بھی ہلچل مچ جائے گی۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ بزدار کی تبدیلی کے حوالے سے چودھریوں نے انوکی لاک لگا رکھا ہے۔ان کے قریبی حلقے کہتے ہیں کہ یا بزدار یا پھر چودھری، تیسرا کوئی نہیں آئے گا۔ دوسری طرف عمران خان چودھری کو اقتدار دینا نہیں چاہتے وہ خائف ہیں کہ چودھری وزیراعلیٰ بن گیا تو خیمہ پھر صرف اونٹ کا ہوگا، باقی سب فارغ ہو جائیں گے۔ کچھ عرصہ پہلے اس مفروضے پر بھی غور کیا گیا کہ اگر (ق) لیگ کو تحریک انصاف میں ضم کر دیا جائے تو چوہدری تحریک انصاف کے وزیراعلیٰ کے طور پر لائے جا سکتے ہیں۔اس حوالے سے قانونی ماہرین سے مشورہ کیا گیا تو پتا چلا کہ اگر ایسا ہوا تو نااہلی کا ڈر ہے یا پھر پرانی پارٹی سے استعفیٰ دے کر نئے سرے سے الیکشن لڑنا ہوگا۔ چوہدری پہلے بھی تیار نہ تھے کہ بڑی مشکل سے انہوں نے پارٹی کو کھڑا کیا ہے اس رائے کے بعد (ق) لیگ کے تحریک انصاف میں ضم ہونے کا باب ہی بند ہو گیا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *