سہیل وڑائچ کا ایک حیران کن سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی و کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے تازہ ترین کالم میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے عالم بالا سے پاکستانیوں کے نام ایک فرضی خط میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔عالم ِبالا۔۔جناح ہائوس۔۔۔پیارے پاکستانیو!!۔۔میں گزشتہ چند دنوں سے پاکستان کے سیاسی اور معاشی حالات پر بہت پریشان ہوں۔

فاطمہ جناح اور لیاقت علی خان نے بھی مجھے اپنی تشویش سے آگاہ کیا، جس کے بعد میں نے اِتّمامِ حُجّت اور اصلاحِ احوال کی خاطر کھلا خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔یہاں مجھے یہ خبریں مل رہی ہیں کہ اپوزیشن جلد ہی احتجاجی تحریک چلانے والی ہے۔ پہلا جلسہ اکتوبر میں کوئٹہ میں ہوگا اور پھر ہر بڑے شہر میں جلسوں کے بعد جنوری میں لانگ مارچ اور اسلام آباد کی طرف ریلی کا بھی پروگرام ہے۔دوسری طرف حکومت بھی مفاہمت یا ڈائیلاگ کا دروازہ کھولنے کے لئے تیار نہیں۔ ایسے میں صورتحال تصادم اور ڈیڈ لاک کی طرف جاتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ اِس طرح کے حالات میں کسی شخصیت یا ادارے کو صلح جوئیانہ کردار ادا کرنا چاہئے اور دونوں طرف سے تصادم کی طرف بڑھتے ہوئے فریقوں کو روکنا چاہئے، اِس وقت افسوس کی بات یہ ہے کہ تاحال کوئی شخصیت یا ادارہ ایسا نہیں جو غیرمتنازعہ ہو اور ملک میں افہام و تفہیم کے لئے اپنا کردار ادا کر سکے۔پیارے پاکستانیو!!میرے بچو یہ ملک میں نے بڑی مشکل سے انگریزوں اور ہندوئوں دونوں سے لڑ کر حاصل کیا تھا، میں نے شروع ہی سے اس میں پارلیمانی جمہوریت کی بنیاد رکھی، پارلیمان کے ذریعے سے صلاح مشورے اور افہام و تفہیم سے ملک چلانے کا اصول وضع کیا۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں جمہوری نظام کے پہیے ہیں حکومت نظام کو چلاتی ہے تو اپوزیشن اس کی غلطیوں پر نظر رکھتی ہے لیکن اگر حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے سے تصادم میں الجھ جائیں تو جمہوریت کا سارا نظام ہی بےمعنی اور بےاثر ہو جاتا ہے۔میں خود بدعنوانی، اقربا پروری اور ذخیرہ اندوزی کے سخت خلاف تھا،

بطور گورنر جنرل پاکستان میں نے بہت سی تقریروں میں ان سماجی اور سیاسی برائیوں کے خلاف لڑائی کا اعلان کیا مگر جب حکومتوں اور اداروں پر جانب داری کا الزام لگ جائے اور اپوزیشن اور عدالتیں ہم آواز ہو جائیں کہ احتساب کا ادارہ غیرجانب دار نہیں تو پھر ایسے میں حکومت کو بھی تحمل، برداشت اور رواداری سے کام لینا چاہئے۔میں نے ہمیشہ قانون کو بالاتر سمجھ کر اس کی پابندی کی کبھی قید میں نہیں ڈالا گیا لیکن میں نے کبھی قانون کے ذریعے اپنے مخالفوں کو نیچا دکھانے کی کوشش بھی نہیں کی۔ قانون کا احترام تبھی قائم رہتا ہے اگر یہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لئے مساوی طور پر استعمال ہو۔ میں تشویش سے دیکھ رہا ہوں کہ اپوزیشن کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ اسی لئے اپوزیشن لڑائی پر آمادہ ہو گئی ہے، یہ صورتحال پریشان کن ہے۔عزیز پاکستانیو!!اپنے کھلے خط کے ذریعے میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کو انتباہ کرنا چاہتا ہوں کہ آپ دونوں ہی غلط راستے پر چل رہے ہیں۔اپوزیشن جلسے جلوس کرنے کا قانونی اور آئینی حق رکھتی ہے مگر دھرنے اور ریلیاں ملک کو عدم استحکام کی طرف لے جائیں گی۔ عمران خان کا دھرنا یا مذہبی و سیاسی جماعتوں کے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ، ان سب کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کو بیٹھ کر یہ طے کرنا چاہئےکہ کسی گروہ یا پارٹی کو اسلام آباد یا کسی شہر کا گھیرائو کر کے اپنے مطالبات منوانے کے طریقے پر پابندی عائد ہونی چاہئے۔ حکومت کو پورے پانچ سال کا مینڈیٹ پورا کرنا چاہئے۔ دوسری طرف حکومت اپوزیشن کو نیب مقدمات میں پھنسا کر جو گرفتاریاں کر رہی ہے، وہ بند کرے۔ اپوزیشن کو اس کا جائز مقام دے کر، اسے صلاح مشورے اور قانون سازی کے عمل میں شریک کرے۔ آئندہ انتخابات کو غیرجانب دارانہ اور شفاف بنانے کے لئے تمام سیاسی جماعتیں اتفاق رائے سے لائحہ عمل طے کریں۔ نیب کے قانون کو موثر، غیرجانب دار اور شک و شبہ سے بالاتر رکھنے کیلئے دوسرے ممالک کے احتسابی اداروں کے ماڈل کو اپنایا جائے۔ حکومت اور اپوزیشن ملک سے غربت، بےروزگاری اور مہنگائی کو دور کرنے کے لئے اقدامات پر غور کریں۔پیارے پاکستانیو!!میں نے اپنے دل کی باتیں لکھ دی ہیں، آپ ان پر عمل کریں گے تو ملک ترقی کرے گا اور اگر عمل نہیں کریں گے تو حالات مزید خراب ہوں گے۔فقط۔۔ایم اے جناح۔۔۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *