سہیل وڑائچ کا بی بی سی کے لیے خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار و سینئر صحافی سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وزیر اعظم عمران خان کی سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے رقابت چھپائے نہیں چھپتی۔ وفاقی حکومت میں کام کرنے والے تمام اعلیٰ عہدیداران کو علم ہے کہ خان صاحب کو شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی ایک آنکھ نہیں بھاتے۔

کابینہ کے اکثر اراکین سمجھتے ہیں کہ خان صاحب اپنا اصلی سیاسی حریف نواز شریف کو نہیں شہباز شریف کو گردانتے ہیں۔ ان کے خیال میں شہباز شریف ہی اپوزیشن کا وہ واحد رہنما ہے جو مقتدرہ کا پسندیدہ ہے اور کسی بدلتی صورتحال میں وہ خان صاحب کا متبادل ہو سکتا ہے۔اسی وجہ سے خان صاحب شہباز شریف پر خصوصی توجہ رکھتے ہیں۔ شہباز شریف کے خلاف مقدمات ہوں، ا ن کی بطور وزیر اعلیٰ کارکردگی ہو یا ان کے بیانات ہوں، ہر ایک پر تحریک انصاف کے ترجمانوں کا زور دار ردعمل آتا ہے۔شہباز شریف کی ضمانت پر رہائی ہو یا پھر ان کی بیرون ملک جانے کی بات ہو، تحریک انصاف کسی معاملے پر انھیں آزاد نہیں چھوڑنا چاہتی۔ شہباز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت اس دن ملی جس دن وزیر اعظم خان صاحب سعودی عرب کے سرکاری دورے پر جانے والے تھے۔اتفاق یہ ہوا کہ دورے میں دو گھنٹے کی اس لیے تاخیر ہو گئی کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پیغام بھیجا کہ وہ وزیر اعظم کا خود ایئرپورٹ پر استقبال کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے عمران خان دو گھنٹے تاخیر سے سعودی عرب روانہ ہوئے مگر یہی تاخیر شہباز شریف کے حوالے سے بڑا مسئلہ بن گئی۔ اگر تو شہباز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ خان صاحب کے سعودی عرب جانے کے بعد ہوتا تو اس بات کا امکان تھا کہ تحریک انصاف رد عمل دینے میں تاخیر کر دیتی اور اس وقت سے فائدہ اٹھا کر شہباز شریف بیرون ملک روانہ ہو جاتے مگر عمران خان

کے دورہ میں دو گھنٹے کی غیر متوقع تاخیر سے سارا کھیل خراب ہو گیا۔خان صاحب نے فوراً ہنگامی اجلاس بلایا اور اپنے وزیروں اور ترجمانوں کو ہدایت کی کہ شہباز شریف کے باہر جانے کی ڈٹ کر مخالفت کرنی ہے۔ اسی دو گھنٹے میں حکومت نے پالیسی بنا کر اگلے دن صبح شہباز شریف کو بیرون ملک جانے سے روک دیا۔خان صاحب اور ان کی جماعت شہباز شریف کو روک کر کیا تاثر دینا چاہتی ہے؟ ظاہر ہے پہلی بات اور ظاہری بات تو یہی ہے کہ شہباز شریف کے باہر جانے سے ان کے احتسابی ایجنڈے کو نقصان پہنچتا ہے۔ مگر اصلی اور اندرونی بات یہ ہے کہ حکومت شہباز شریف کو روک کر یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ کسی ڈیل یا رعایت کے لیے تیار نہیں ہے۔ تیسری بات یہ بھی ہے کہ حکومت شہباز شریف اور مقتدرہ کے درمیان تعلق کو بھی لوگوں کے سامنے ایکسپوز کر کے اپنا سیاسی قد بڑھانا چاہتی ہے۔حکومت کا خیال ہے کہ اگر شہباز شریف بیرون ملک چلے گئے تو یوں لگے گا کہ شہباز اور مقتدرہ میں کوئی خفیہ انڈرسٹینڈنگ ہو چکی ہے اور تب ہی تو انھیں یہ رعایت ملی ہے۔ دوسری طرف حکومت چاہتی ہے کہ اول تو وہ اس دورے کو روک کر اس تاثر کو ہی ختم کر دیں کہ کوئی ڈیل چل رہی ہے اور فرض کریں اگر اس کے باوجود شہباز شریف چلے جاتے ہیں تو پھر ایک منفی تاثر ابھارا جائے گا کہ شہباز شریف مقتدرہ سے ڈیل کر کے گئے ہیں

تاکہ اس کے بعد حکومت مقتدرہ اور اپوزیشن دونوں پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر سکے۔پنجاب میں شہباز شریف کی کارکردگی کا جادو ابھی تک قائم ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے گذشتہ دنوں ملتان میں چڑیا اور باز کا مقابلہ کرانے کی کوشش کی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ بزدار کی کارکردگی شہباز شریف کی کارکردگی سے کہیں بہتر ہے۔خان صاحب کے اس فرمان پر صوبائی کابینہ کے کئی سینیئر اراکین بھی ہنستے رہے بلکہ ایک رکن نے تو خان صاحب سے ایک ملاقات میں کہہ دیا کہ ’میں بزدار کی کیوں عزت کروں؟ کیا وہ میرٹ میں ہم سے بہتر ہے؟ ہم سے زیادہ پڑھا لکھا ہے؟ پارٹی میں ہم سے پرانا ہے؟ یا بیرون ملک سے کوئی خاص ڈگری لے کر آیا ہے؟ اس کی عزت کیوں کی جائے جبکہ اس کی کارکرگی بھی بہت بری ہے۔‘شہباز شریف کے علاوہ اس وقت دوسرا بڑا مسئلہ جہانگیر ترین کا ہے۔ جہانگیر ترین کو جاننے والے کہتے ہیں کہ وہ کچی زمین پر پاؤں نہیں رکھتے یعنی اپنے فیصلے بہت سوچ سمجھ کر اور دیکھ بھال کے کرتے ہیں۔ترین گروپ کی طرف سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں فارورڈ بلاک کا قیام ایک اہم سیاسی پیش رفت ہے۔ گو ترین صاحب کے احتساب کے حوالے سے بیرسٹر علی ظفر کی ذمہ داری لگنے کے بعد ایسا ظاہر ہو رہا ہے کہ اب مزید انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔ چھوٹے موٹے معاملات یونہی چلیں گے لیکن دراصل بڑے معاملات پر انڈرسٹینڈنگ ہو چکی ہے۔

مگر دوسری جانب ترین گروپ کی طرف سے الگ گروپ بنانے کا فیصلہ یہ عندیہ دے رہا ہے کہ ترین گروپ صرف ترین صاحب کے خلاف احتسابی کارروائیوں کے حوالے سے منظر عام پر نہیں آیا بلکہ اس کے مقاصد سیاسی ہیں اور آگے چل کر یہ ایک موثر پریشر گروپ بن سکتا ہے۔سیاسی حلقوں میں اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا ترین گروپ وفاقی حکومت یا پنجاب حکومت کو گرانے میں ن لیگ اور اپوزیشن کے ساتھ مل کر کوئی کردار ادا کر سکتا ہے؟ ترین گروپ ہو یا اپوزیشن کے دوسرے رہنما وہ سب کسی ایسے سگنل کے انتظار میں ہیں جس سے یوں لگے کہ حکومت اور مقتدرہ اب ایک صفحے پر نہیں ہیں۔ جوں ہی یہ سگنل ملے گا نئی طرح سے سیاسی صف بندی ہو گی اور نئے سیاسی کھیل کا آغاز ہو جائے گا۔ویسے تو الیکشن سنہ 2023 میں طے ہیں لیکن جوں جوں وقت آگے بڑھ رہا ہے مستقبل کی تاش لگنی شروع ہو جائے گی۔ موجودہ حکومت جس رفتار سے معاشی گرداب میں پھنستی جا رہی ہے اور گورننس میں بہتری نہیں لا رہی اس سے اس کا اگلی ٹرم کے لیے الیکشن جیتنا محال ہوتا جائے گا۔سچ تو یہ ہے کہ تمام تر الزامات اور مقدمات کے باوجود پنجاب میں ابھی تک ن لیگ کا سحر اور ووٹ بینک قائم ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی دوسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ آئندہ مقابلہ تو ان دونوں جماعتوں کا ہی ہو گا۔ پی ٹی آئی کا ووٹ بینک بڑھا ہے لیکن دوسری طرف مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے حکومت سے شکایات بھی بہت ہیں۔ پچھلے تمام ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کا ووٹ بینک سنہ 2018 سے تو زیادہ ہے مگر ن لیگ سے ابھی بھی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی ایک کے سوا کوئی ضمنی انتخاب نہیں جیت سکی۔پی ٹی آئی کا ووٹ بڑھنے کی وجہ اس کی مقبولیت نہیں بلکہ نظام کی کرپکشن ہے یعنی سیاست پھر سے 2 پارٹی نظام کی طرف لوٹ رہی ہے۔ پہلے جو ووٹ پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی یا آزاد امیدواروں کو پڑے تھے اب وہ براہ راست دونوں بڑی پارٹیوں (پنجاب میں) یعنی ن لیگ اور تحریک انصاف کو پڑ رہے ہیں۔لگتا ہے کہ اگلے الیکشن تک یہی صورتحال برقرار رہے گی۔ اگر تو پی ٹی آئی نے کوئی معاشی کارنامہ دکھا دیا تو پھر تو اسے سیاسی فائدہ ہو گا لیکن اگر یہی بے ڈھنگی چال رہی تو پھر اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی کو اپنے ہاتھ ملنے پڑیں گے۔

Comments are closed.