سہیل وڑائچ کا ملکی فیصلہ سازوں اور بااختیاروں کے نام خصوصی پیغام

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا اب وہ وقت نہیں آ گیا کہ ریاست اپنے بیانیے پر قائم رہے اور بیانیے سے ہٹنے کی جو مثالیں ہمارے سامنے آتی ہیں وہ ختم ہوں۔ اکثر لوگ ریاستی بیانیے پر ہمیشہ سے شک کرتے ہیں، اس کی وجہ یہی ہے کہ

ریاست کہہ تو رہی ہے کہ ہم سیاست میں حصہ نہیں لے رہے، کسی معاملے میں مداخلت نہیں کر رہے لیکن پرویز رشید کی نااہلی ہو یا سینیٹ چیئرمین کا انتخاب، ہر جگہ اہلِ سیاست کی بےبسی اور مقتدرہ کی بےمہار طاقت نظر آتی ہے۔ اگر ریاست نے اپنے شہریوں اور ریاست کے درمیان اعتماد اور محبت کا لازوال رشتہ قائم کرنا ہے تو پھر اسے مداخلت کے رویے سے باز رہتے ہوئے، واقعی سب کے ساتھ برابری کا سلوک کرناچاہئے۔دنیا کے وہ ممالک جہاں ریاست اور شہری ایک دوسرے پر مکمل اعتماد اور وفاداری کے ساتھ رہتے ہیں وہاں ریاست شہریوں کی سیاست اور ان کی زندگیوں میں غیرضروری دخل اندازی نہیں کرتی۔ مقتدرہ نے وقت سے کافی سیکھا ہے اور اپنے آپ کو ظاہری طور پر سیاست سے دور کر لیا ہے لیکن جن چند معاملات کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ان میں مقتدرہ نے اگر کردار ادا کیا ہے تو اس نے اپنے بیانیے کی خود ہی خلاف ورزی کی ہے۔ کاش کوئی ایسا طریقہ ہو جس سے مقتدرہ اپنی غلطیوں کا خود جائزہ لیکر اپنی اصلاح کرتی رہے۔ اگر مقتدرہ کے کردار سے شہریوں میں شک اور سازش کا احساس بڑھے گا تو وفاداری اور اعتماد کا رشتہ کمزور رہے گا۔آنے والے دور میں نئے الیکشن اور نئی سیاست کا آغاز ہونا ہے، اس میں مقتدرہ کو اپنے غیر جانبدارانہ کردار کو پہلے ہی سے واضح بھی کرنا چاہئے اور پھر اس پر ڈٹ جانا چاہئے اگر مقتدرہ نے ماضی کی غلطی دہرا کر مداخلت کی پالیسی جاری رکھی تو یہ ملکِ پاکستان نہیں رہے گا بلکہ سازشستان بن جائے گا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *