سہیل وڑائچ کا پاکستان کے اصل طاقتوروں کو زبردست مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے تازہ ترین کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔سچ کہنے دیجئے کہ اِس وقت ملک پر اختیار رکھنے والے لوگ معاشی اور سماجی مسائل تو ایک طرف ملک کے سیاسی مسائل پر بھی سنجیدگی سے نہ غور کر رہے ہیں اور نہ ہی اُنہیں حل کرنے کی

کوشش کر رہے ہیں حالانکہ اگر وہ اپنے وقتی فائدوں اور مراعات سے باہر نکل کر سوچیں تو سیاسی مسائل کو حل کرنے کا انہیں ہی دور رس فائدہ ہو گا۔ملکی حالات پر جتنا غور کریں اتنا ہی سرو اشرافیہ پر افسوس ہوتا ہے۔ ملک کا سب سے بڑا منتخب ادارہ پارلیمان موجود ہے مگر اس کی حیثیت گھاس پھونس والی ہو چکی ہے۔ اپوزیشن اور حکومت پارلیمان میں مل بیٹھنے اور ملک کے مسائل کا حل نکالنے کو تیار ہی نہیں لگتے۔پارلیمان کا اجلاس اس لئے بلایا نہیں جا رہا کہ جیلوں میں پڑے اراکین کو بھی لانا پڑے گا اور قانون سازی اس لئے نہیں کی جا رہی کہ اپوزیشن کی بھی سننا پڑے گی، لگتا یوں ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر جیسی متوازن شخصیت بھی حکمران جماعت کے دبائو میں آ کر اپنی کوششیں چھوڑ چکی ہے، اپوزیشن اب اسپیکر کے ساتھ ایجنڈے پر بات کرنے تک کو تیار نہیں۔ ڈیڈ لاک ہے، مکمل ڈیڈ لاک!!کیا ایسے میں ضروری نہیں کہ اعلیٰ ترین عہدوں پر براجمان فیصلہ کن طاقتیں ملک و قوم کی بہتری کے لئے کوئی کردار ادا کریں؟ کیا وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے پارلیمان کی ناکامی کا حشر دیکھتے رہیں گے؟ کیا سرو کے درخت، گھاس پھونس کی تباہی و بربادی کا منظر یونہی دیکھتے رہیں گے؟ کیا اشرافیہ کے یہ لوگ، غریب عوام کی عسرت اور بےبسی کا یونہی تماشا دیکھتے رہیں گے؟کیا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک کا یونہی نظارہ کیا جاتا رہے گا اور کوئی بھی اپنا مثبت اثر اِس صورتحال کو بہتر کرنے میں نہیں ڈالے گا؟

اگر معاملہ یونہی چلتا رہا تو تاریخ سرو کے ان بےفیض درختوں پر نوحہ ضرور لکھے گی اور نظام کا خون ہونے کا الزام بھی انہی پر دھرا جائے گا۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سیاست سے سرو کا کیا تعلق؟ کیا پینٹا گون مثبت مشورے نہیں دیتا؟ سیاست پر جرنیل بھی دنیا بھر میں بات کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے سرو کا جب جی چاہتا تھا تو وہ کسی کو ہرانے یا جتانے کیلئے اپنا زور لگاتا رہا ہے۔ کبھی کسی کو قید میں ڈالتا رہا ہے اور کسی کو زندان سے آزاد کرکے مراعات بھی دیتا رہا ہے۔1985اور 2002کی اسمبلیوں اور حکومتوں کی مثالیں اظہر من الشمس ہیں۔ اب بھی سرو کو شجر سایہ دار سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔ اگر سسٹم چل گیا تو سرو بھی سب سے اونچا اور بھرا پُرا لگے گا۔ اگر گھاس پھونس مر گیا، سیاست کا جنگل اجڑا رہا تو سرو کے پتے بھی زرد ہو جائیں گے۔کہتے ہیں کہ سرو کے درخت سنٹرل ایشیا سے لا کر اگائے گئے۔ تاریخ کہتی ہے کہ مغل بادشاہ چہار باغوں اور شالیمار باغوں میں سرو کے درخت اس طرح سے لگاتے تھے کہ اونچے قد کے سرو قطار اندر قطار نظر آئیں گے مگر سرو اس طرح سے لگائے جاتے تھے کہ گھاس پھونس کی ہریالی پر ان کے قد کا اثر نہ پڑے۔بدقسمتی یہ ہو گئی ہے کہ ہمارے نظام کے سرو قد کے تو لمبے ہیں لیکن باغ میں اپنے لمبے قد کا حسن اسے لوٹانے کو تیار نہیں۔ سرو کے اردگرد جھاڑیاں نہ ہوں، پھول پودے نہ ہوں، برگد اور پیپل نہ ہو تو اکیلا سرو انتہائی بھدا اور لم ڈھینگ نظر آتا ہے۔اس ملک میں موجود سرو کے درختوں کو باغبانی کا یہ سبق یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ باغ کی ہریالی کو فروغ دے کر خود بڑے نظر آ سکتے ہیں جس طرح آج کل سیاسی باغ ویران اور اجڑا ہوا لگ رہا ہے۔ ایسے میں سرو کا درخت لاکھ لمبا ہو وہ حسین ہرگز نظر نہیں آ سکتا۔پاکستانی اقتدار اعلیٰ نے اگر تاریخ میں اپنا نام روشن رکھنا ہے تو انہیں سیاسی نظام کو چلانے کے لئے ایڈوائس اور مدد دینا ہوگی۔ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ سرو کا سیاست سے تعلق نہیں، سیاست ہو گی تو نظام ہو گا، سرو بھی نظام کا حصہ ہے۔

Comments are closed.