سہیل وڑائچ کی انوکھے اسٹائل میں سیاسی پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ابنِ بطوطہ نے جونہ خان المعروف محمد شاہ تغلق کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ بہت ظالم تھا مگر اس نے 700سال پہلے بھی تغلق آباد میں ایسا انتظام کر رکھا تھا کہ ہر واقعہ کی سچی خبر بادشاہ تک پہنچتی رہے

وہ اپنے خبرنگاروں کی حفاظت کرتا تھا 700سال بعد خبرنگاری اور صحافت کا سارا نظام خراب ہو چکا ہے، بادشاہ کو سچی خبر لیجانے والا کوئی نہیں اگر کوئی خبرنگار بادشاہ کے سامنے سچے حالات سنا دے تو بادشاہ کے حواری اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ میرے ہوتے ہوئے اخباری دنیا کے ایک بڑے مالک اور صحافی کو پکڑ لیا گیا اس کا بھائی شدید بیمار تھا صحافی لاکھ کہتا رہا مرنے سے پہلے مل لینے دو مگر اسے اجازت نہ ملی، صحافی کا بھائی دنیا سے چلا گیا۔ بادشاہ کو پھر بھی حالات کا احساس دلانے والا کوئی نہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ بادشاہ اکیلا ہو رہا ہے۔وزراء کا چال چلن۔۔۔محمد بن تغلق اپنے وزراء اور امراء کے احوال کی خوب خبر رکھتا تھا، 700سال بعد اب بھی مسلم آباد میں یہی روایت جاری ہے، وزراء کے ٹیلی فون ریکارڈ کئے جاتے ہیں، ان کی نجی باتیں بھی سنی جاتی ہیں، بادشاہ وزراء کے بارے میں رپورٹس سن کر ان سے ناراض ہو جاتے ہیں۔ شوگر اور آٹا بحران کے حوالے سے تحقیقات آگے بڑھی ہیں مگر فی الحال بادشاہ اس رپورٹ کو عوام کے سامنے لانے کو تیار نہیں ہیں۔نوٹ:خط کے چند اقتسابات درج کئے ہیں باقی تفصیل سفرنامے میں درج کروں گا میں ابنِ بطوطہ دوئم مسلم آباد اور تضادستان کے باشندوں کے کھلے دل اور مہمان نوازی سے بہت متاثر ہوا ہوں، یہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں، دولت کمانا چاہتے ہیں لیکن سب ظاہری طور پر دولت سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ ہر کوئی امریکہ جانا چاہتا ہے لیکن ظاہری طور پر سب امریکہ سے نفرت کرتے ہیں، سب نفسا نفسی کے خلاف ہیں مگر عملی طور پر سب نفسا نفسی میں مبتلا ہیں۔ غیبت کو سب بڑا گناہ سمجھتے ہیں مگر ہر وقت غیبت کرکے اس کا مزہ لیتے ہیں۔ سچ کو اچھا سمجھتے ہیں مگر اپنا کام جھوٹ سے چلاتے ہیں۔ فحاشی اور بےحیائی کے سخت خلاف ہیں مگر دنیا میں سب سے زیادہ فحش فلمیں یہیں دیکھی جاتی ہیں غرضیکہ یہ واقعی تضادستان ہے باقی باتیں اگلی دفعہ….(ش س م)

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *