سہیل وڑائچ کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے آگ اور پانی نہیں مل سکتے، دریا کے دو پاٹ اکٹھے نہیں ہو سکتے، شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی نہیں پی سکتے، بلی اور چوہے میں دوستی نہیں ہو سکتی بالکل ایسے ہی سندھ کی شہری

اور دیہی قیادت میں سانجھ نہیں ہو سکتی، یہ لڑتے رہے ہیں اور لڑتے رہیں گے۔ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بدل گئی۔ دیوارِ برلن گر گئی، مشرقی اور مغربی جرمنی ایک ہو گئے، برطانیہ اور فرانس کی سو سالہ جنگ ختم ہونے کے بعد انگلش چینل (زیر سمندر سرنگ) بن گیا، آئر لینڈ کے متحارب گروپوں کی لڑائی ٹھنڈی ہو گئی، دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی مگر سندھی اور مہاجر کے درمیان فاصلے نہ مٹ سکے۔ایم کیو ایم کے بانی نے مجھے کہا تھا کہ سندھی سیاست میں بہت گہرے اور عقل مند ہیں، دوسری طرف اردو بولنے والے سب سے زیادہ پڑھے لکھے اور سمجھ دار ہیں مگر دونوں کی عقل پر ایسا پردہ پڑا ہوا ہے مشترکہ ماضی، مشترکہ حال اور مشترکہ مستقبل کے باوجود اپنے اختلافی مسائل کے حل کے لئے مل بیٹھنے تک کو تیار نہیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان دونوں کے مسائل کا کوئی قابلِ عمل حل نہ ہو مگر نہ آج تک یہ اکٹھے چلنے کو تیار ہوئے ہیں نہ کسی سنجیدہ حلقے نے ان کے درمیان کوئی باعزت سانجھ کی کوشش کی ہے۔اس کا کوئی بھی ذمہ دار ہو اور اس کی جو بھی وجہ ہو، یہ سب اہلِ سندھ کے لئے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

Comments are closed.