سہیل وڑائچ کے کالم میں حیران کن پیشگوئی کردی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کسی بھی معاملے کو دیکھنا ہو تو تعمیر اور تخریب کے پہلو کا جائزہ ضرور لینا چاہئے۔ آج کل کہا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف اگلا الیکشن ہیلتھ کارڈ کی بنیاد پر جیتے گی اس مقصد کے لئے پنجاب کے تمام ڈویژنوں

میں جلد سے جلد ہیلتھ کارڈ بنانے کی مہم جاری ہے، ہیلتھ کارڈ کا اجرا تعمیری قدم ہوگا مگر ہیلتھ کارڈ کے لئے جس خطیر رقم کی ضرورت ہے وہ پنجاب کے ترقیاتی بجٹ سے منہا کی جارہی ہے، یوں محکمہ صحت پر پنجاب حکومت کے اخراجات کے علاوہ ہیلتھ کارڈ کی رقم کا بوجھ بھی پڑے گا۔ اِس معاملے میں تخریب کا پہلو پنجاب کے ترقیاتی بجٹ یعنی سڑکوں، اسکولوں اور دوسرے تعمیراتی پروجیکٹس پر کٹ لگانا ہوگا۔یوں بہت سے نئے منصوبے نہ تعمیر ہوں گے اور کئی نامکمل ہی رہ جائیں گے، نوکر شاہی میں اِس حوالے سے کش مکش جاری ہے۔ بظاہر ہیلتھ کارڈ کا منصوبہ چلتا رہے گا لیکن اُس کے مالی مضمرات دوسرے شعبوں پر پڑیں گے اور آنے والے برسوں کے ترقیاتی منصوبے بری طرح متاثر ہوں گے۔تعمیر و تخریب کے فلسفے کو مدِنظر رکھ کر آئندہ الیکشن کے منظر نامہ کا جائزہ لیا جائے تو تحریک انصاف تخریب کے تناظر میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوگی کہ اُنہوں نے احتساب کے لئے سب بڑوں کے گریبان میں ہاتھ ڈالا، سب کو زندان کے حوالے کیا جا رہا ہے کوئی اسٹیبلشمنٹ کا پسندیدہ تھا یا مخالف، سب کو عمران خان نے نشانِ عبرت بنانے کی کوشش کی۔دوسری طرف اگر تحریک انصاف سے تعمیر کے بارے میں سوال کیا جائے گا تو اُس کا کوئی تسلی بخش جواب عوام کے لئے میسر نہیں ہوگا۔ ہیلتھ کارڈ وہ واحد بڑا منصوبہ ہے جس پر کام جاری ہے اُس کے علاوہ کسی بڑے پروجیکٹ کا ذکر تک نہیں،

حکومت صرف روزمرہ کے کام کاج یا آگ بجھانے کا ٹاسک بجا لا رہی ہے، دور رس ترقی یا خوشحالی کے منصوبے دور دور تک نظر نہیں آ رہے۔اگر یہ حکومت اپنے 5سال پورے کرتی ہے اور الیکشن میں تعمیر و تخریب دونوں کا حساب دیتی ہے تو اِس حکومت کے ذمہ تخریب زیادہ ہوگی اور تعمیر کم۔ نتیجتاً حکومت الیکشن میں بلند آہنگ نعرے نہیں لگا سکے گی۔اڑھائی سال گزر چکے، حکومت تقریباً آدھی مدت پوری کر چکی ایسے میں حکومت کو اب تخریب کی بجائے تعمیر کے بیانیے پر توجہ دینی چاہئے، اپنے ہائوسنگ پروجیکٹس اور دوسرے ترقیاتی منصوبوں پر توجہ صرف کرنی چاہئےاگر حکومت نے اپنی ساری توانائی مخالفوں کو گرانے، سزائیں سنانے، قید خانوں میں بھیجنے یا اُن کی عمارتیں گرانے تک محدود رکھی تو آنے والے وقت میں لوگ حکومت کے تعمیری منصوبوں پر سوال اٹھائیں گے اور پوچھیں گے کہ ٹھیک ہے آپ نے غلط لوگوں کو سزا دلوا دی مگر ہمارے لئے کیا تعمیر کیا؟ کون سی موٹر وے، کون سا ڈیم، کون سا پل یا کون سی یونیورسٹیاں نئی بنائی ہیں؟ اسی طرح یہ سوال بھی ہوگا کہ پچاس لاکھ گھر، کروڑوں نوکریاں اور اربوں ڈالر واپس لانے کے دعوے کیا ہوئے؟سیاست سے ہٹ کر بھی دیکھا جائے تو تعمیر ایک مثبت اور تخریب ایک منفی جذبہ ہے۔ 13سال پہلے شہباز شریف نے جو عمارتیں گرائیں وہ ابھی تک خستہ حال پڑی ماضی کے حکمرانوں کا منہ چڑا رہی ہیں، یہ نہ ہو کہ جو عمارتیں آج گرائی جارہی ہیں وہ آنے والے برسوں میں موجودہ حکمرانوں کا منہ چڑاتی رہیں۔

Comments are closed.