سیاستدانوں سے مایوس حسن نثار نے دل کی بات کہہ دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پی ڈی ایم سے تو سرکاری ملازمین کہیں بہتر نکلے جن کا احتجاج نتیجہ خیز ثابت ہوا اور جدوجہد تنخواہوں میں 25فیصد معقول اضافہ پر ختم ہو گئی جبکہ بیچاری پی ڈی ایم اسی تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہے

اور جانے کب تک مجبور رہے گی۔کھسیانی بلیاں اور بلے کھمبا نوچ رہے ہیں اور دوسری طرف الیکشن کمیشن نے سینٹ الیکشن کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ اس الیکشن کے نتیجہ میں کون کمزور یا مضبوط ہو گا، مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ مجھے سو فیصد یقین ہے کہ عوام کی حالت جوں کی توں رہے گی۔منیر نیازی آخری سچ بیان کر چکا ۔۔۔’’مل بھی گیا تو پھر کیا ہو گا ۔۔لاکھوں ملتے دیکھے ہیں ۔۔پھول بھی کھلتے دیکھے ہیں ۔۔جا اپنی حسرتوں پہ آنسو بہا کے سو جا‘‘ ۔۔73سال بیت گئے۔ عوام کی حسرتیں اور آنسو بیتنے کا نام نہیں لے رہے ۔سر ڈھانپیں تو پائوں خالی، پائوں ڈھانپیں تو سر ۔روٹی ہے تو گھر کا کرایہ نہیں، کرایہ ہے تو روٹی نہیں، دونوں ہوں تو بچوں کی سکول فیس نہیں، وہ بھی ہو تو بجلی گیس کا بل نہیں۔آدمی کا بدترین المیہ اور بدنصیبی کی انتہا یہ ہے کہ اس کی ساری زندگی بنیادی ترین ضروریات کیلئے سسکتے اور ا یڑیاں رگڑتے ہوئے گزر جائے۔شعیب منصور جیسے فلم جینئس کی کسی فلم کا مکالمہ ہے جسے وسیع تر تناظر میں دیکھنا ہو گا۔ ’’پال نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو ؟‘‘ ہمارے حکمران اتنے گئے گزرے، نالائق اور نااہل تھے اور ہیں کہ پال تو سکتے نہیں تھے پھر بھی آبادی کو بے لگام چھوڑ کر 23کروڑ تک پہنچا دیا۔ بندہ پوچھے پال نہیں سکتے تو پاپولیشن مینجمنٹ، پلاننگ پر ہی توجہ دے لو کہ دین کامل میں تو عبادت کے حوالہ سے بھی اعتدال اور میانہ روی کا حکم ہے لیکن نجاست دانوں میں تو نہ بصیرت نہ جرات۔

Comments are closed.