سیاسی بیٹھکوں میں نئی بحث چھڑ گئی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ظہور دھریجہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ شاکر شجاع آبادی اور سرائیکی وسیب کو امداد کی نہیں صوبے کی ضرورت ہے مگر صوبے کے مسئلے پر حکومت اور سیاستدان وسیب سے مسلسل دھوکہ کرتے آ رہے ہیں۔ شاکر شجاع آبادی کی عیادت کے موقع پر

صحافیوں کے سوال کے جواب میں جہانگیر ترین نے کہا کہ تحریک انصاف کو اگلی بار مینڈیٹ ملا تو صوبے کے مسئلے کو دیکھیں گے ۔ جہانگیر ترین کی یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ جو حکومت صوبے کے نام پر برسراقتدار آئی اسے صوبے بنانا چاہئے اور آئندہ اسمبلی والی بات درست نہیں ہے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ بار بار کہہ رہی ہیں کہ حکومت صوبے کا بل اسمبلی میں لائے ہم حمایت کریں گے ،اب یہ کام تحریک انصاف کا ہے کہ وہ صوبے کا بل اسمبلی میں لائے کہ اس نے صوبے کے نام پر ووٹ لئے۔ اگر ایوان میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ یا کوئی بھی جماعت صوبے کے بل کی مخالفت کرے گی تو وہ خود جوابدہ ہوگی، اگر تحریک انصاف بل ہی نہیں لاتی تو یہ صرف دال میں کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔ بات ہو رہی تھی شاکر شجاع آبادی کی تو عرض یہ ہے کہ شاکر شجاع آبادی کو جہاں بہت سے دوسرے اعزازات حاصل ہیں وہاں ان کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ سرائیکی شاعری میں متفرق اشعار شاکرؔ صاحب نے لکھے اور اگر ہم ادبی تاریخ کا مطالعہ کریں تو اُردو شاعری میں علامہ اقبال نے بھی متفرق اشعار لکھے تھے۔حقیقی بات یہ ہے کہ ادب کے حوالے سے شاکر شجاع آبادی ایک شخص کا نہیں ایک عہد کا نام ہے ، اپنی شاعری کے ذریعے شاکر نے ایک زمانے کو متاثر کیا ہے ، اس کے متاثرین کی تعداد لاکھوں سے نکل کر کروڑوں تک

پہنچ چکی ہے ، اب پاکستان کے علاوہ دنیا کے ہر ملک میں شاکر کے چاہنے والے پرستار موجود ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شاکر شجاع آبادی کی شاعری دنیا کے تمام انسانوں کیلئے ہے ، وہ انسان اور انسانیت سے پیار کرتا ہے ، وہ نہ اشتراکی ہے نہ سامراجی ، وہ دنیا میں پائی جانے والی نابرابری ، جبر اور لوٹ کھسوٹ کے خلاف بات کرتا ہے وہ اعلیٰ سوچ کا ایک نامور شاعر ہے ، نہایت سادہ اور عام لفظوں میں بات کرتا ہے اور وہ جو بات کرتا ہے وہ دلوں میں اُتر جاتی ہے اس کی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں مگر میں اپنی ٹوٹی پھوٹی تحریر میں شاکر کی شاعری کے حوالے اس لئے کوڈ نہیں کر رہا کہ اس کی شاعری ہوا اور خوشبو کی طرح ایک ایسے لطیف جذبے کا نام ہے جسے ہم محسوس تو کر سکتے ہیں مگر گرفت نہیں کر سکتے۔بلاشبہ شاکر شجاع آبادی ہمارے نوجوان نسل کا پسندیدہ اور مقبول شاعر ہے ، وہ جب پڑھ رہا ہوتا ہے تو ہزاروں کے مجمعے میںخاموشی اور ہو کا عالم طاری ہوتا ہے ۔ سامعین ان کے کلام کو گوشِ جاں سے سنتے اور چشم قلب سے پڑھتے ہیں ، وہ سرائیکی زبان کا واحد خوش قسمت شاعر ہے جو سب سے زیادہ پڑھا اور سنا گیا ہے ، اس کی باتیں فکر اور دانائی کی باتیں ہوتی ہیں ، وہ جو بات کرتا ہے دل والی کرتا ہے اور ’’دل سے جو بات نکلتی ہے اثر

رکھتی ہے‘‘ کی مانند اس کے شعروں کی باتیں پُر تاثیر اور پُر مغز ہوتی ہیں ، میں سمجھتا ہوں دانائی کی ایسی باتیں کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ شاکر شجاع آبادی کو سینکڑوں کی تعداد میں ایوارڈز اور تعریفی سرٹیفکیٹ ملے مگر اکادمی ادبیات ایسے غیر منصفوں کو منصف بناتی آ رہی ہے جو شاکر شجاع آبادی اور احمد خان طارق جیسے شعراء کو بھی اپنے حق سے محروم کرتے آ رہے ہیں ، میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ نوبل پرائز والوں کا زاویہ نگاہ محدود ہے ورنہ یہ ہو سکتا ہے کہ شاکر شجاع آبادی نوبل انعام سے محروم رہے ؟ سرائیکی شاعری عالمی ادب میں بہترین اضافہ ہے مگر یہ جگہ مناپلی ہے ، سرائیکی کا تو مسئلہ اس لئے بھی مشکل ہے کہ سرائیکی کی نہ تو اپنی اسمبلی ، نہ صوبہ اور نہ اسمبلی میں کوئی بات کرنے والا ۔مگر کیاسرائیکی شاعری کبھی مر سکتی ہے ، کیا شاکر شجاع آبادی اور دوسرے سرائیکی شعراء کی سوچ کوئی ختم کر سکتا ہے ؟ یہ ممکن ہی نہیں ۔ لیکن ایک ضروری بات جو عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ حکومت شاکر شجاع آبادی کے علاج کے ساتھ ساتھ وسیب میں اس طرح کا ادارہ قائم کرے جو سرکاری سطح پر ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے کام کرے اور مشکل وقت میں صرف شاکر شجاع آبادی ہی نہیں بلکہ دیگر مستحق اہل قلم اور فن کی دنیا سے وابستہ افراد کا ساتھ دے۔