سیالکوٹ والوں سمیت پوری قوم کے کام کی تحریر

ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے گستاخِ رسول کو گرفتار کر کے رسولِ خدا ؐ۔کے سامنے پیش کیا۔۔ رسول اللّٰه ؐ ان لوگوں کی ذہانت سے واقف تھے، اس لیے فرمایا کہ اسے یہاں چھوڑ دو اور علی رضی اللہ عنہ ۔ کو بلاؤ، اور اس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کر کے

فرمایا کہ یا علی آپ اس کو زبان سے محروم کر دیجیے ۔ علی اس شخص کو لے کر چلے گئے مگر ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آیا، وہ آکر شکایت کرنے لگے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اس کو زبان سے محروم نہیں کیا ، بلکہ اس گستاخ کو پیسے اور سامان بھی دیا اور آزاد کر کے شہر سے باہر جانے دیا، (جبکہ آپ یہی بات ہمیں کہتے تو پھر دیکھتے ہم کیا حشر کرتے اس کا)۔ رسول اللّٰه نے مسکرا کر کہا، (تم نہیں سمجھے پر) علی رضی اللہ عنہ میری بات کو سمجھ گئے! (ان کی سمجھ میں تب آیا جب اگلے روز فجر کے وقت اس شخص کو ایمان قبول کر کے خدا کے سامنے سجدہ ریز پایا!

Comments are closed.