سیالکوٹ: وہاں موجود عام لوگوں کا رویہ کیا تھا ؟ افسوسناک انکشاف

سیالکوٹ (ویب ڈٰسک) سیالکوٹ میں نجی فیکٹری کے سری لنکن منیجر کو زدوکوب کرکے زندگی سے محروم کرنے کے بعد نذرآتش کرنے کے افسوس ناک واقعے میں وہاں موجود گروہ کی بے حسی بھی سامنے آگئی، ہجوم کو روکنا تو دور، ان میں موجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد ویڈیو بناتی رہی۔

کئی افراد تصویریں اور سیلفیز لیتے ہوئے بھی نظر آئے، مشتعل گروہ فیکٹری منیجر کے بے جان جسم کو ٹھڈے مارنے سے باز نہ آیا، دیکھنے والوں میں سے کئی لوگوں نے چھتوں پر چڑھ کر اس فعل کی ویڈیو بنائی جبکہ کچھ لوگ خاموش تماشائی بنے رہے۔پہلے بھی زدوکوب کے متعدد واقعات میں عوام مدد کرنے کے بجائے ویڈیوز بناتے ہوئے نظر آئے، دیکھنے والوں نے مدد کرنے اور ہجوم کو روکنے کے بجائے ویڈیوز بنانے کو ترجیح دی۔سیالکوٹ میں ہجوم نے دن دہاڑے ایک انسان کو زندگی سے محروم کر دینا اور وہ بھی انتہائی ظالمانہ طریقے سے انتہائی افسوسناک عمل ہے ، بدقسمت غیر ملکی شہری پر فیکٹری ورکرز نے مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر دھاوا بول دیا۔پریانتھا کمارا جان بچانے بالائی منزل پر بھاگا، فیکٹری ورکرز نے چھت پر گھیر لیا، زدوکوب کرکے بے دم کردیا، انسانیت سوز کھیل کو فیکٹری گارڈ روکنے میں ناکام رہے۔پولیس نے لوگوں کو اشتعال دلانے اور جرم کا اعتراف کرنے والے ایک ملزم فرحان کو گرفتار کرلیا۔