سینئر اور سنجیدہ صحافی کا بڑا دعویٰ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عرفان اطہر قاضی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔گزشتہ ایک سال سے سیاست کے میدان میں جو ہلکی ہلکی ڈھولکی بج رہی تھی اب اچانک ایسی کیا فکر مندی لاحق ہو گئی ہے کہ بینڈ باجے کے ساتھ پوری بارات ہی خانِ اعظم کے دروازے پر آکھڑی ہوئی ہے۔

پہلے جہانگیر ترین گروپ متحرک ہوا پھر حمزہ شہباز اور شہباز شریف قید سے باہر آئے اب تقریباً تین سال کی طویل خاموشی کے بعد چوہدری نثار علی خان پنجاب اسمبلی میں انٹری چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ انہونیاں کچھ ہونے کی نشانیاں ظاہر کرتی ہیں اور اس میں بنیادی سوچ یہی نظر آتی ہے کہ جمود کے شکار اس ہائبرڈ نظام کو دوبارہ روایتی نظام کی طرف کیسے منتقل کیا جائے؟ جس سے یہ تاثر ختم ہو سکے کہ تخلیق کار نے جو شاہکار تخلیق کیا تھا وہ اس سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں لیکن یہ کام اتنا بھی آسان نہیں کہ پلک جھپکنے میں اس شاہکار پر برش پھیر کر ساری محنت ضائع کر دی جائے۔ کینوس پر سب سے اہم مرحلہ ”ع ع“ کا روحانی گٹھ جوڑ ہے جسے ”ع غ“ کرنا کہیں زیر غور تو ضرور ہے لیکن ”ع ع“ اتنے دھاگوں میں لپٹے ہیں کہ یہ الجھی ڈور سلجھانا اس لئے بھی آسان نہیں کہ جہانگیر ترین گروپ پنجاب میں ن لیگ کے بغیر یہ کام نہیں کر سکتا جبکہ بڑے میاں صاحب کسی بھی صورت وقتی طور پر موجودہ نظام کو سہارا دینے کے لئے تیار نہیں۔ ایسے میں چوہدری نثار علی خان کی پنجاب اسمبلی میں انٹری اسی سبب نظر آتی ہے کہ اگر چھوٹے میاں اپنے بڑے بھائی کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ مریم بی بی کا سیاست میں کردار ان کے بعد رکھا جائے تو بوقت ضرورت چوہدری نثار علی خان ن لیگ، جہانگیر ترین گروپ کے مشترکہ امیدوار کے طور پر پنجاب کی عین کو غین کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں لیکن ایسے مرحلے میں جہانگیر ترین، علی ترین پر منی لانڈرنگ کیس کی لٹکتی تلوار خانِ اعظم کی اصل ڈھال بنے گی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سرکار بیرسٹر علی ظفر کی رپورٹ منظر عام پر لانے میں تاخیر کررہی ہے خصوصاً وفاقی و پنجاب بجٹ کی منظور ی تک اس رپورٹ کے حقائق سامنے آنے کے امکانات کہیں نظر نہیں آتے۔ تخلیق کاروں کے لئے یہ فیصلہ کرنا بھی مشکل ہے کہ پنجاب کی ”ع“ کو ہٹاتے ہیں تو وفاق کی ”ع“ نئی پنجاب حکومت کو چلنے نہیں دے گی۔ ایسے میں وفاق کی ”ع“ ہٹاتے ہیں تو وہاں ”ن“ کی راہ میں ”پ“ حائل نظر آتی ہے کیونکہ بلاول بھٹو ممکنہ طور پر تخلیق کاروں کے امیدوار ہو سکتے ہیں جو کسی بھی صورت (ن) کو قبول نہیں۔ ع کو غ کرنے کے کھیل میں ن کہیں نظر نہیں آتی۔ ع کی اصل طاقت ن ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خانِ اعظم وارننگ بھی دیتے ہیں اور تھپکی بھی۔ بس آپ نے گھبرانا نہیں۔ ع غ کا یہ کھیل یوںہی جاری رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *