سینئر تجزیہ کاروں کی رائے سامنے آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) علامہ سعد رضوی کیا کسی سیاسی جماعت سے انتخابی اتحاد کریں گے۔ کیا ان کی چوائس مسلم لیگ (ن) یا پی ٹی آئی ہوگی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک مشکل فیصلہ ہوگا۔ کیونکہ ان کا حمایتی سمجھتا ہے کہ دونوں پارٹیاں اس کی مخالف ہیں۔ اور ان دونوں کی حکومتوں میں

ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہوا ہے۔ اور ایک نظریاتی مذہبی جماعت کیلئے ان کے ساتھ چلنا آسان نہیں ہوگا۔ نامور کالم نگار سہیل دانش اپنےا یک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔سعد رضوی کا لب و لہجہ بتارہا ہے کہ وہ حالات کے تیور کو بھانپ رہے ہیں لیکن ان کے حمائتیوں کو یقین ہے کہ انکا لیڈر اقتدار سے زیادہ نظریات کو فوقیت دے گا۔ لیکن تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اپنی تمامتر ڈکٹیشن کو منوانے کے باوجود ٹی ایل پی انتخابی معرکہ آرائی میں کوئی چونکا دینے والے نتائج حاصل نہیں کرپائے گی۔ وہ کسی کو سرخرو کرنے یا ناکام کرنے میں کوئی کردار تو ادا کرسکتے ہیں۔ لیکن تن تنہا پنجاب میں کوئی بڑا سرپرائز دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ سعد رضوی کو اپنی تنظیم کو ایک ایسے پریشر گروپ کے طور پر رکھنا چاہیے جو کسی بھی وقت ریاستی رٹ کو چیلنج کرسکے۔ اگر صرف پریشر گروپ کی بات ہے۔ تو وہ یہ قوت تو منواچکے ہیں۔ آگے بڑھنے کیلئے انہیں نئے راستے تلاش کرنے ہوں گے۔ اپنے امیج کو اسی طرح سافٹ بنانا ہوگا جس طرح وہ آج کل انکسار اور بردباری سے تقریریں کررہے ہیں۔ ایک ایسا شخص جو نبی آخر الزماںؐ کی محبت میں سرشار ہے،اب انہیں اپنے اور اپنی تنظیم کے حوالے سے کوشش کرنی ہوگی کہ اس کی قبولیت بڑھے۔ محض کالعدم کا لفظ نکل جانے سے تو بات نہیں بنے گی۔ انہیں آگے بڑھنے کیلئے سرگرمی بھی دکھانی ہوگی۔ سیاسی رہنمائوں سے ملاقاتیں اور عوامی اجتماعات میں لوگوں کے مسائل پر بھی بات کرنی ہوگی۔ ان کے پاس یہ بھی آپشن ہے کہ وہ کسی مذہبی جماعت کے ساتھ اتحاد کرلیں۔ وہ جو بھی فیصلہ کریں انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے مزاحمت آسان چیز ہے۔ سیاست اتنی آسان نہیں ہوتی۔

Comments are closed.