سینئر خاتون صحافی کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) بیوی بچوں کا خیال رکھنے والے سے محبت ہو جاتی ہے۔گرم چپاتی پکاناکپڑے دھونا تھک جائے اس کے پیر دبانا اظہار محبت ہے۔اس محبت کو ایک نفسیاتی بیمار عورت نہیں سمجھ سکتی۔فیمینسٹ بیمار عورت نما طبقہ بیچارہ شاہراہوں اور چوکوں پر بینر زاٹھائےتماشہ بن چکی ہیں۔ایک لڑکی نے بینر اٹھا رکھا تھا

نامور خاتون کالم نگار طیبہ ضیاء اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘ آپ کے بگڑے ہوئے بیٹے کو ٹھیک کرنا کسی کی بیٹی کی ذمہ داری نہیں ، شادی کر دو لڑکا ٹھیک ہو جائے گا کے چکر میں لڑکیاں ختم ہوجاتی ہیں ‘‘ہم نے بینر والی لڑکی سے کہا درست کہتی ہو کسی کی بیٹی کی ذمہ داری نہیں بلکہ تیری نانی کی بیٹی کی ذمہ داری ہے یعنی تیری ماں کی۔ کان ادھر سے پکڑو یا ادھر سے اولاد کی پہلی تربیت گاہ ماں کی آغوش ہے اور ماں عورت کو کہتے ہیں۔ عورت بحیثیت ماں اپنی اولین ذمہ داری نبھائے تو آج اسے چوک پر بینر اٹھا کر کھڑے ہونے کی اذیت سے دوچار نہ ہونا پڑے۔بیٹے کو حیا غیرت ایمان اخلاق کی تربیت دی ہوتی تو کسی کی بیٹی برباد نہ ہوتی۔ عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔اور تیری دادی کے بیٹے یعنی تیرے باپ نے رزق حلال کھایا اور کھلایا ہوتا تو اس کا بیٹا کنجر اور قاتل نہ نکلتا۔ یہ بینر اپنے والدین کی تربیت کے خلاف اٹھائو لڑکی۔۔۔نکاح کے بغیر ہنی مون منانے والے جوڑوں کا انجام ہمیشہ عبرتناک ہوتا ہے۔ماں کی تربیت اور باپ کا لقمہ حرام کا انجام اولاد کی بربادی کی صورت مکافات عمل بنتا ہے۔پہلے لڑکا لڑکی مخلوط تعلیمی درسگاہوں اور ہاسٹل میں چوری چھپے ملتے تھے پھر ترقی کر لی تو والدین سے جھوٹ بول کر شہر سے باہر جانے لگے ، مزید ترقی ہو گئی تو مری تک چلے گئے اور اب اتنی ترقی کر چکے ہیں کہ گلگت سکردو تک چلے جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک ‘‘ نا بیاہتا ‘‘ جوڑا ہنی مون منانے سکردو ہوٹل پہنچا ہوا تھا۔ حسب توقع لڑکی کے پاس پیسے ختم ہو گئے تو لڑکا اسے کمرے میں سوتا چھوڑ کر رفو چکر ہو گیا۔روتی دھوتی پریشان حال لڑکی کو ہمارے اداروں نے بحفاظت لاہور پہنچایا۔ لڑکی نے کہا اسے گھر نہیں ہاسٹل پہنچایا جائے۔ والدین سے جھوٹ بول کر نکلی تھی کہ سہیلیوں کے ساتھ ٹرپ پر جارہی ہے اور موبائل فون بند رکھا ، اب بہانہ کر دے گی فون خراب ہو گیا تھا وغیرہ۔