سینئر صحافی حامد میر نے اپنے ساتھ پیش آنے والا حیران کن واقعہ بیان کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری ایک معاملے (عدالتوں کے دھکے کھانے کے بعد بے گناہ ثابت ہونے ) سے جان چھوٹی تو کچھ خواتین کے فون آنے لگے اور وہ فون پر بہکی بہکی باتیں کرنے لگیں۔ میں نے ایک مہربان کو ایسی تین خواتین کے

فون نمبر دے کر کوائف معلوم کئے تو ہوش ٹھکانے آ گئے۔ تینوں کا تعلق ایک ہی شہر اور ایک ہی ادارے سے تھا اور تینوں کا ہدف بھی ایک ہی تھا۔ مجھے ایسا لگا کہ میرے ہاتھ میں پکڑا ہوا فون دراصل دشمنوں کا ایک ہتھیار ہے لہٰذا میں نے اپنے فون کا کم سے کم استعمال شروع کر دیا۔ صرف اہم فون کالیں لینڈ لائن سے کرنے لگا اور آئی فون پر آنے والی بےتحاشا کالوں کو سننا ہی چھوڑ دیا۔ صرف وہی نمبر اٹینڈ کرنا شروع کر دیے جو معلوم ہیں۔ ’’نامعلوم‘‘ اور ناشناسا نمبروں سے پرہیز شروع کیا تو زندگی کافی آسان ہو گئی۔ مزید آسانی کے لئے گھنٹی کو بھی خاموش کر دیا۔اِس لمبی تمہید کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ ماضی کے انتہائی تلخ تجربات کے باعث میں نے فون کو بہت احتیاط سے استعمال کرنا سیکھا لیکن اِس کے باوجود کچھ فنکار قسم کے لوگ اخلاق و تہذیب کے تمام تقاضوں کو چیر پھاڑ کر آپ کی پرائیویسی میں کہیں نہ کہیں سے گھس جاتے ہیں۔ 

Comments are closed.