سینئر صحافی مظہرعباس نے ایک اور ہی کہانی بیان کردی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مظہر عباس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ مجموعی طور پر پاکستان کھیلوں کے حوالے سے ایک محفوظ ملک ہے اور ایک دو واقعات کے علاوہ یہاں بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے دورے میں بھی شاید ہی کوئی واقعہ اس نوعیت کا ہوا ہو

جس سے کھلاڑیوں کی زندگیوں کو خطرہ ہو۔ ایک دلچسپ واقعہ مجھے یاد ہے جب کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ایک لڑکا میدان میں آگیا تھا جس کو عمران خان نے پکڑ لیا تھا اور بلا اٹھا لیا تھا۔ اس دن کراچی میں ایک طلبہ تنظیم نے احتجاج کی کال دی تھی اپنے کسی لیڈر کی رہائی کے لئے۔ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بھارت کے انتہا پسندوں نے پچ خراب کردی تھی۔ پاکستان کی ٹیم کے دورہ سے پہلے بال ٹھاکرے نے وارننگ دی تھی کہ پاکستان کی ٹیم کو بھارت کی سرزمین پر قدم نہیں رکھنے دیں گے۔ ایسے میں ہر قسم کے تھریٹ کے باوجود اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے ٹیم کو بھیجنے کا فیصلہ کیا جس کا بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے خیرمقدم کیا۔ انڈین فاسٹ بولر کپل دیو نے انتہا پسندوں کو پیغام دیا کہ کرکٹ کو سیاست سے دور رکھو اور ہمیں کھیلنے دو۔نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی پاکستانیوں کی نظر میں بہت عزت ہے جس طرح انہوں نے وہاں مسجد میں اٹیکس کے بعد مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا تھا، زخموں پر مرہم رکھا تھا۔ شاید انہیں وزیر اعظم عمران کے فون اور یقین دہانی کے بعد ٹیم کو فیصلے پر نظرثانی کا کہنا چاہئے تھا۔ ان کی شاید مشکل یہ تھی کہ انہیں جس طرح کی رپورٹ اپنے ہائی کمیشن سے ملی تھی اس کے بعد اگر دورہ کے دوران ایک واقعہ بھی ہوجاتا تو ان کا وزیر اعظم رہنا مشکل ہوجاتا۔اہم بات یہ ہے کہ الرٹ تھا یا نہیں

اور نیوزی لینڈ کی انٹیلی جنس کو ایسی کیا رپورٹ ملی تھی اور کہاں سے۔ شیخ صاحب سے صرف درخواست ہے کہ دستانے اور بغیر دستانے والوں کو تلاش کریں سازش کہنے سے پہلے اندر کے معاملات درست کریں یہ سنجیدہ معاملہ ہے ورنہ تو ؎ تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے۔کھیل اب سیاست کا حصہ ہوگیا ہے خاص طور پر ان ممالک میں جہاں اس کے چاہنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے جیسا کہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا۔ لہٰذا ہمیں تحفظ کے حوالے سے بہت سے عوامل کو پیش نظر رکھنا پڑے گا۔ اگر آپ 2009ء کو لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر اٹیکس کے پس پردہ عوامل کو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ تامل ٹائیگرز اور بھارت کو پاکستان کی سری لنکن حکومت کی حمایت پسند نہیں تھی۔ ہم نے وہاں بدامنی کے خلاف مشن میں ان کی مدد کی تو انہوں نے اس کا بدلہ یہاں لے لیا۔ مگر اس سے بھی بڑا سوال یہ تھا کہ ہم نے کیسے سنگین غلطی کی اور ٹیم کو نشانہ بننے دیا۔ جو افسران حفاظت پر مامور تھے انہوں نے بغیر کلیئرنس کیسے سری لنکن ٹیم کی بس کو جانے دیا۔ اس وقت اگر ڈرائیور کمال مہارت کا مظاہرہ نہ کرتا تو کئی کھلاڑی جان سے جا سکتے تھے۔ کس کو سزا ہوئی اور سزا تو دور کی بات جو لوگ اس میں مبینہ طور پر ملوث تھے ان میں سے کچھ آج بھی موجود ہیں۔ اگر مرتضیٰ بھٹو کے واقعہ میں ملوث افسران تمام مراعات کے ساتھ ریٹائر ہوئے یا آج بھی نوکری پر ہیں تو بس

پھر سمجھ لیں کہ کوئی بھی الرٹ ’’فیک‘‘ نہیں ہو سکتا۔ 2002ء میں بھی نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم اچانک سیریز منسوخ کرکے چلی گئی تھی۔ گوکہ اُس وقت بات کچھ سمجھ میں آنے والی تھی۔ میں نے وہ واقعہ کور کیا تھا۔ ٹارگٹ ٹیم نہیں سامنے والے ہوٹل پر کھڑی بس میں بیٹھے فرانسیسی انجینئر تھے مگر جس وقت اٹیک ہوا غالباً صبح کے آٹھ یا نو کا وقت تھا اور اسی وقت ٹیم کو اسٹیڈیم کے لئے نکلنا تھا کہ اچانک واقعہ ہوا اور باہر کھڑے کھلاڑی اور لابی میں ٹیم مینجمنٹ ہل سی گئی۔ خبر بھی سب سے پہلے نیوزی لینڈ ریڈیو نے بریک کی جس کی ٹیم میچ کوریج کے لئے آئی ہوئی تھی۔ شاید اگر ٹیم گرائونڈ پر پہنچ جاتی تو سیریز بچ جاتی۔وزیر اعظم عمران خان کو معاملات کو سنجیدہ لینا ہوگا۔ اس قسم کے واقعات کا تعلق افغانستان کی بدلتی سیاسی صورت حال اور پاکستان میں بدامنی کے کچھ اہم واقعات سے ہوسکتا ہے۔ افغانستان میں تالبان کی حکومت کی تشکیل میں مدد کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ آپ کے وفاقی دارالحکومت میں کیا ہورہا ہے۔ اگر یہاں تالبان کا جھنڈا لہرایا جارہا ہے تو کیا پیغام جائے گا۔ حال ہی میں نامزد اور منتخب ہونے والے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ رمیز راجہ کو بھی سمجھنا ہوگا کہ کرکٹ اب محض کھیل نہیں ہے سیاست اور ڈپلومیسی کا حصہ ہے لہٰذا بیان دینے میں جوش سے زیادہ ہوش کی ضرورت ہے کیونکہ ہماری پہلی ترجیح اپنے ملک کو محفوظ اور اپنی ٹیم کو مضبوط بنانا ہے۔ ہم اس ورلڈ کپ میں اچھی کارکردگی دکھا کر دنیا کو مثبت پیغام دے سکتے ہیں۔ ہمیں دو مضبوط ٹیموں بھارت اور نیوزی لینڈ کو شکست دے کر صرف یہ پیغام دینا ہے کہ چاہے تم ہمارے میدان آباد نہ ہونے دومگر ہم کھیل کے میدان میں آگے بڑھتے رہیں گے۔

Comments are closed.