سینئر صحافی مظہر برلاس کی دنگ کر ڈالنے والی پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں پی ڈی ایم کی جب بھی میٹنگ ہوتی ہے تو مجھے نئی روشنی اسکول یاد آجاتے ہیں۔ تعلیمِ بالغاں کا یہ منظر ہر دوسرے تیسرے دن دیکھنے کو مل جاتا ہے۔اپوزیشن جنوری میں حکومت کے جانے کی باتیں کر رہی ہے جبکہ وزیراعظم بھی

پُراعتماد ہیں۔نامور کالم نگار مظہر برلاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’’اگر اپوزیشن نے ڈائیلاگ کرنا ہے تو پارلیمنٹ آئے، آئینی طور پر مجھے نکالنا ہے تو تحریکِ عدم اعتماد لائے، ایوان میں اپوزیشن کے ہر سوال کا جواب دوں گا، پکڑے جانے کے ڈر سے اُن کی آوازیں نکل رہی ہیں، لاک ڈائون کا مطالبہ کرنے والے جلسے کر رہے ہیں، پتا نہیں یہ کیا کرنا چاہتے ہیں‘‘۔مولانا فضل الرحمٰن نے بھی جوابی حکمت عملی کے طور پر 31دسمبر تک استعفے جمع کروانے کی ڈیڈ لائن دے دی ہے، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا ہے کہ جنوری کے آخر میں لانگ مارچ ہوگا، دھرنے کا قصہ اُنہوں نے نہیں چھیڑا حالانکہ حکمتِ عملی میں دھرنا بھی شامل ہے۔سیاستدانوں نے پوری قوم کو مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ اگر پچھلے آٹھ سال کی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ سچا کون ہے؟ کیونکہ 2014میں جو مطالبے عمران خان کر رہا تھا‘ آج وہ مطالبے اپوزیشن کی جماعتیں کر رہی ہیں اور جو کچھ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں 2014میں کہہ رہی تھیں، آج وہ عمران خان کہہ رہا ہے۔آپ کو یاد ہوگا کہ 2014میں جب اِس وقت کے وزیراعظم نواز شریف پریشان ہو گئے تھے تو پیپلز پارٹی نے اُنہیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا راستہ دکھایا تھا، اِس وقت آج کی پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے رہنمائوں نے دھرنے والوں کو خانہ بدوش قرار دیا تھا، کسی نے اُنہیں جتھہ قرار دیا تھا، جماعتوں کے اعتماد کے بعد نواز شریف نے کہا کہ ’’میں استعفیٰ نہیں دوں گا۔‘‘جب پی ٹی آئی والوں نے استعفے جمع کروائے تو ان پر پھبتی کسی گئی کہ استعفیٰ لینے آئے تھے اور استعفے دے کر چلے گئے۔ اب پھر استعفوں کا چکر بن گیا ہے۔اُس اسپیکر نے تو استعفے منظور نہیں کئے تھے‘ موجودہ اسپیکر بھی چھ سات ماہ تو آرام سے گزار دیں گے۔ 2014اور آج میں صرف اتنا فرق ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے پوزیشن تبدیل کی ہے۔ کل جس پوزیشن پہ عمران خان تھا، آج اُس پوزیشن پہ پوری پی ڈی ایم ہے، وہی دھاندلی کے قصے، وہی حکومت نہیں چلنے دیں گے والی بڑھکیں، وہی وزیراعظم سے استعفے کے مطالبے، منظر وہی ہے بس کردار تبدیل ہوئے ہیں۔اب کسے سچا مانا جائے؟ اگر کل حکومت گرانا غلط تھا تو آج کیسے ٹھیک ہو گیا اور اگر کل حکومت گرانا درست تھا تو پھر آج غلط کیسے ہو گیا؟ سیاستدانوں کے تبدیل ہوتے ہوئے موقف نے پوری قوم کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ پتا نہیں کیا ہو گا؟ ویسے پچھلے دس بارہ سال میں جو بھی حکومتیں گئی ہیں‘ اُن کی رخصتی عدلیہ کے ذریعے ہوئی ہے۔ اب بھی عدالتوں میں مقدمات ہیں، متعدد کیسز کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔

Comments are closed.