سینئر صحافی مظہر عباس کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) سچ پوچھیں اس وقت مجھے ریاست کم اور غیرریاستی عناصر زیادہ طاقتور نظر آتے ہیں۔ ایک اور بڑی سیاسی غلطی بھٹو کی سزا ہے جس کے اثرات زائل کرنے میں شاید برسوں لگ جائیں۔ اس کے بعد سیاست میں ایجنسیوں کا کردار اور بڑھ گیا اور اشاروں کی سیاست شروع ہوگئی۔

نامور کالم نگار مظہر عباس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ادارے طاقتور اور پارلیمنٹ کمزور ہوگئی۔ سیاست دانوں نے بھی غلطیوں سے نہیں سیکھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ طاقت کا توازن اسلام آباد سے راولپنڈی منتقل ہوگیا جسے ہم نے ’’سول اور ملٹری تعلقات‘‘ کا نام دیا۔ کتنے فخر سے یہ بات کی جاتی ہے کہ دونوں ایک صفحے پر ہیں حالانکہ جمہوریت میں حکومت کے ماتحت تمام ادارے آتے ہیں۔اس کو کہتے ہیں دو پاکستان۔سوچتا ہوں، اس دسمبر میں کتنی گرمی آئے گی۔ سرد موسم میں گرمی کا اپنا مزہ ہوتا ہے۔ بدعنوانی کے الزامات ایک کھیل بن کر رہ گئے ہیں لہٰذا میدان بھی کھلا ہے، ٹیم بھی موجود ہےاور ایمپائر بھی۔ایک طرف دو نوجوان، دو عمر رسیدہ سیاست دانوں کے ہمراہ ہیں تو دوسری طرف 70سالہ نوجوان کپتان جو بولنگ کرنے کو تیار ہے اور نظریں وکٹ پر ہیں، آخری اوور ہےاور کپتان کو لگتا ہے کہ ایمپائر اب اس کے ساتھ ہے لہٰذا نو بال نہیں دے گا۔سلیکٹرز بہرحال میچ دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں کہ اب نئی ٹیم لائی جائے، نیا کپتان تلاش کریں یا پھر، اس ٹیم کو اس کپتان کے ساتھ چلنے دیں۔

Comments are closed.