سینئر صحافی نے اہم حقائق سامنے رکھ دیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔شیخ رشید احمد نے کراچی پہنچتے ہی عوامی زبان میں دوچار ایسی باتیں کی ہیں،جن سے سندھ حکومت کے کارپردازان کو یہ سمجھ نہیں آئی ہو گی کہ یکایک وزیرداخلہ کی ڈیوٹی کراچی اور سندھ کے حالات سنوارنے پر کیوں لگا دی گئی ہے۔

شیخ صاحب نے سب سے دبنگ بات یہ کی ہے کہ وزیراعظم عمران خان پانچ سال ڈٹ کے حکومت کریں گے۔ بعض لوگوں کے نزدیک انہوں نے جو لفظ استعمال کیا وہ پایہئ ثقاہت سے گرا ہوا ہے،اس کا مطلب یہ ہے کہ عمران خان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، چاہے وہ پی ڈی ایم ہو یا کوئی دوسرا سیاسی اتحاد،شیخ رشید احمد کو شاید عمران خان نے اسی لئے اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے کہ وہ ایک بلند آہنگ آواز رکھتے ہیں اور حکومت کے مخالفین کو سخت الفاظ میں پیغام بھی دیتے ہیں، شیخ رشید احمد نے البتہ اس بار کوئی بڑی بڑھک نہیں لگائی ۔ سندھ حکومت کو سخت سست بھی نہیں کہا، اس قیاس آرائی کو بھی رد کر دیا کہ سندھ میں گورنر راج نافذ ہونے جا رہا ہے، یہ بھی کہا کہ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سے مل کر سندھ میں امن و امان کو بہتر بنائیں گے، رینجرز کو بھی مزید اختیارات دیں گے۔شیخ رشید نے بالواسطہ طور پر یہ بھی کہہ دیا کہ سندھ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔ یہ اچھی پالیسی ہے، وگرنہ ایک کو گراکے دوسرے کو کھڑا کرنے کی حکمتِ عملی ہمیشہ ناکام ہی ثابت ہوئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کی حکومت کے لئے خارجی خطرات کم ہو رہے ہیں، سارا خطرہ انہیں پارٹی کے اندر سے ہے اور اس کا وہ کور کمیٹی کی میٹنگ میں اظہار بھی کر چکے ہیں۔ اندرونی خطرے میں سب سے بڑا خطرہ جہانگیر خان ترین گروپ ہے، جس نے معاملات طے ہو جانے کے باوجود اپنا علیحدہ وجود

برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جہانگیر ترین گروپ کی دیکھا دیکھی پنجاب اسمبلی کے اندر کچھ اور گروپ بھی اُبھر رہے ہیں اور غالباً یہ تاثر پھیل گیا ہے کہ حکومت سے کوئی بات منوانی ہے تو گروپ بنانا پڑے گا۔ پریشر گروپ کی حکمت عملی زور پکڑ لیتی ہے تو کم از کم پنجاب میں حکومت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ صاف لگ رہا ہے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی پر گرفت کمزور ہے یا پھر ان کی ارکان اسمبلی کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ قائم نہیں ہو سکی۔ یہ ضروری تو نہیں کہ پنجاب اسمبلی کے ارکان کو بھی عمران خان ہی راضی رکھیں۔ عثمان بزدار کو یہ معاملہ خود سنبھالنا چاہیے جو سنبھال نہیں پا رہے۔ انہوں نے اگرچہ ہم خیال گروپ سے ملاقات کرکے ان کی بہت سی باتیں مانیں لیکن اپنی یہ بات نہ منوا سکے کہ وہ اپنا علیحدہ گروپ ختم کر دیں۔ اس علیحدہ گروپ کی کامیابیوں کے باعث اب دوسرے ارکانِ اسمبلی بھی یہ سوچ رہے ہیں کہ کچھ حاصل کرنا ہے تو علیحدہ گروپ بنانا پڑے گا۔ جیسا کہ پنجاب اسمبلی کے 15ارکان اسمبلی کا ایک گروپ سامنے آ چکا ہے۔وزیراعظم نے گھر کی مضبوطی کے لئے پنجاب میں عثمان بزدار کو چوکیدار بنا رکھا ہے، مگر وہ گھر مضبوط نہیں کر پا رہے۔ اب فیصل واوڈا کے اس فارمولے سے تو بات نہیں بنتی کہ اگر پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم کی گئی تو وزیراعظم قومی اسمبلی توڑ دیں گے۔ ایسی باتوں سے معاملات کو سہارا نہیں ملتا، بلکہ وہ مزید کمزور ہو جاتے ہیں۔

حکومت کی ساکھ تباہ کرنے کے لئے جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے ارکان کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے۔ مثلاً راجہ ریاض نے یہ کیسے کہہ دیا کہ علی ظفر نے اپنی رپورٹ میں جہانگیر ترین کو کلین چٹ دے دی ہے، جبکہ علی ظفر کا کہنا ہے کہ انہوں نے تو ابھی وزیراعظم کو رپورت ہی پیش نہیں کی۔ ابھی تو حکومت اس سوال کا جواب نہیں دے پا رہی کہ جب ایف آئی اے جیسا قومی تحقیقاتی ادارہ چینی سکینڈل کی تحقیقات کر رہا ہے تو پھر علی ظفر کو کس حیثیت میں انکوائری سونپی گئی۔ کیا یہ چلتی ہوئی تحقیقات کو متاثر کرنے کی کوشش تھی تاکہ جہانگیر ترین کو فائدہ پہنچایا جائے۔ اس طرح تو باقی لوگ بھی یہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ ان کے خلاف نیب یا ایف آئی اے کی تحقیقات روک دی جائے اور کسی ایک شخص کو یہ جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپ دی جائے کہ ملزم کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے یا نہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایک سیاسی پارٹی کے ایک دھڑے کو ایک ایسے شخص نے ہائی جیک کر لیا ہے جس پر سنگین الزامات ہیں۔ شیخ رشید احمد، فواد چودھری، فیصل واوڈا اور شہباز گل جیسے وزیراعظم کے ”خیرخواہ“ ان کی حکومت کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا شاندار ڈھنڈورا تو پیٹ سکتے ہیں، لیکن جو کچھ خارجی و داخلی محاذ پر ہو رہا ہے، اسے روک نہیں سکتے، پی ڈی ایم بھی اب پھر سے انگڑائی لینے لگی ہے۔ وہ اس مخمصے سے غالباً 29مئی کے اجلاس میں فیصلوں کے بعد نکل آئے گی کہ پیپلزپارٹی کو ساتھ لے کر چلنا ہے یا اس کے بغیر ہی تحریک چلانی ہے۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ پیپلزپارٹی کے بغیر پی ڈی ایم زیادہ خطرناک ثابت ہوگی۔ اُدھر عمران خان نے اپنے اس بیانیے سے پیچھے نہیں ہٹنا کہ کسی کے پریشر میں نہیں آئیں گے۔ اب اس کھینچا تانی کے ماحول میں جہانگیر ترین کو کلین چٹ دینا بھی خاصا دشوار نظر آ رہا ہے اور کلین چٹ نہ دینے کا مطلب ہے کہ ہم خیال گروپ کی پریشرائزنگ بھی جاری رہے گی۔ ایسے میں شیخ رشید احمد عوام کی زبان بول کر دل پشوری تو کر سکتے ہیں، مگر زمینی حقائق شاید اس سے مختلف ہوں اور کپتان کو قدم قدم پر مصلحتوں اور یوٹرن کے سہارے اپنی آئینی مدت پوری کرناپڑے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *