سینئر صحافی ڈاکٹر دانش کے انکشافات

لاہور ( ویب ڈیسک) سینئر صحافی ڈاکٹر دانش نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی امریکا میں ایک کمپنی سامنے آئی ہے جس کے دو دفاتر بھارتی شہر نئی دلی اور بنگلور میں موجود ہیں جبکہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں دو بھارتی بھی شامل ہیں ۔معروف تجزیہ کار

اور صحافی ڈاکٹر دانش نے اپنی ویڈیو میں ایک تحقیقاتی صحافی کی تحقیقات کو کاغذی ثبوتوں کیساتھ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اکدار ( عمران خان ڈیویلپمنٹ اینڈ ریسرچ) یو ایس سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں لسٹڈ ہے اور کام کر رہی ہے اس کا مرکزی آفس واشنگٹن میں ہے،عمران خان خود اکدار کے چیف پیٹرن ہیں ،جمائمہ گولڈ سمتھ اور ان کے دونوں بیٹوں سمیت دو بھارتی افراد بورڈ آف گورنر میں شامل ہیں، اکدار کے دو آفس بنگلورا ور نیو دہلی میں ہیں جبکہ ہماری افواج بارڈر پر بھارت کیساتھ نبرد آزما ہے ۔ڈاکٹر دانش نے کہا کہ صحافی فاروق مرزا کی تحقیقات کے مطابق اکدار کا آفس واشنگٹن میں ہے جس کے بل بورڈ پر وزیر اعظم کا نام لکھا ہوا ہے ، اس کمپنی کا ایک آئی آر ایس نمبر بھی ہے جس سے حکومت پاکستان اور الیکشن کمیشن لا علم ہیں ، علی زیدی اور حفیظ چودھری بھی اکدار کے ممبران ہیں ، حفیظ چودھری کا مستعفی ہونے کا لیٹر بھی موجود ہے جبکہ انہوں نے اعتراف کیا کہ اکدار ان کے گھر پر بنی تھی ۔ولید اقبال کی جانب سے 8اگست 2016 کو اکدار کے سی او ’’دمیر ایم ترمزی‘‘ کو لیٹر جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ عمران خان کو اس سے مکمل طور پر علیحدہ کیا جائے ،وزیر اعظم صاحب آپ نے امریکا ڈاکٹر عبداللہ کا تقرر کیا کہ وہ اکدار کا آپریشن بند کریں ، دمیر ترمزی کا سفارتخانے میں داخلہ بند کر دیا۔اکدار یو این اے اور آئی ایم ایف کیساتھ لسٹڈ بھی ہے جہاں اکدار کے افسران پاکستان کے مسائل پر بات کرتے ہیں ، کیا یہ مفادات کا ٹکراو نہیں ہے ۔ڈاکٹر دانش نے کہا کہ وزیر اعظم صاحب ہر پاکستانی کی طرح میرا بھی حق ہے کہ آپ سے ان سوالات کا جواب مانگوں ، صحافی فاروق مرزا کے مطابق اکدار کو دی گئی رقم فنڈ ریزنگ میں جمع کی گئی ، کیا یہ درست ہے ؟۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ اکدار کے چیف پیٹرن ہیں ؟، کیا یہ درست ہے کہ خود آپ نے 2011 میں کولمبیا یونیورسٹی میں اکدار کے قیام کا اعلان کیا تھا ؟، طلاق کے باوجود جمائمہ کیوں بورڈ آف ڈائریکٹر اور بینیفشری میں شامل ہیں ؟، کیا یہ درست ہے کہ علیمہ خان نے اکدار کے حوالے سے فاروق مرزا سے رابطہ کیا تھا اور انہیں یہ سٹوری شائع کرنے سے روکنے کی کوشش کی ؟۔ ڈاکٹر دانش نے پوچھا کہ اکدار کے کتنے اکاونٹ ہیں ؟،اس کے پاس کتنے پراجیکٹس ہیں ؟، فنڈ ریزنگ سے کتنے پیسے جمع ہوئے ہیں ؟۔

Comments are closed.