سینئر صحافی کا دلائل کے ساتھ حیران کن دعویٰ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حبیب اکرم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔افغانستان کے اتار چڑھاؤ سے پاکستانی سیاست کا مدوجزر ایک پراسرار انداز میں جڑا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور عوامی نیشنل پارٹی کے درمیان نفرت کی حد کو پہنچا ہوا اختلاف ہو یا عمران خان اورمولانا فضل الرحمن کے

مابین حائل گہری خلیج‘ زمانے کے فرق کے ساتھ ان کی بنیادی وجہ افغانستان ہی ہے۔ خاکسار نے تو صرف سیاسی نشیب و فرازپر ایک نظر ڈالی ہے‘ آپ مجھ سے زیادہ سمجھدار ہیں۔ ذرا ادھر ادھر توجہ کریں گے توآسانی سے پتا چلا لیں گے کہ پاکستان کے کون کون سے شعبہ ہائے زندگی پر افغانستان کے واقعات اپنا اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ افغانستان میں ہر تبدیلی کے ساتھ ہی پاکستان کے اندربچھی طاقت کی بساط پربھی کھلاڑی بدل جاتے ہیں۔ سوویت یونین اور افغانیوں کے ساتھ جنرل ضیاالحق‘ نوازشریف اور جماعت اسلامی ابھرے۔ تالبان کے متوازی جنرل پرویز مشرف‘ عمران خان اور مولانا فضل الرحمن کے رنگ نکھرے۔ آج کے تالبان عمران خان سے واقف ہیں۔ ہماری سیاسی قیادت میں نواز شریف اور آصف علی زرداری نے تالبان کے افغانستان کو ہمیشہ امریکا کی نظر سے دیکھا جبکہ عمران خان غلط یا صحیح طورپر ہمیشہ اپنے تصورات کی روشنی میں اس مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ زرداری جب صدر بنے تو اپنی حلف برداری پر اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی کو بلا کر واضح پیغام دیاکہ افغانستان کے اندر انکی ہمدردیاں کس کے ساتھ ہیں۔ نواز شریف کے تیسرے دور حکومت میں تو امریکی نقطہ نظر اتنا توانا تھا کہ ایوانِ وزیراعظم میں ہونے والے اجلاسوں میں عسکری قیادت کی پالیسی کو ملک کیلئے نقصان دہ بتایا گیا۔ اس کے برعکس عمران خان افغانستان پر امریکی دھاوے سے بھی پہلے سیاسی اور غیرفوجی حل پر زور دیتے رہے ہیں۔ انکی یہ سوچ 2012ء کے بعد سے مقتدرہ کی سوچ سے ملنا شروع ہوگئی۔ سوچ کے اس اشتراک سے پاکستان میں جو سیاسی واقعات رونما ہوئے‘ اتنے پرانے نہیں کہ یاد دلانے کی ضرورت پڑے۔آج جب امریکی فوج افغانستان سے نکل چکی ہے تو یہیں سے افغانستان کی کہانی کا پانچواں باب شروع ہو رہا ہے۔ افغان مسئلے کے سیاسی حل کی سوچ عملی طور پرعالمی سطح پر بھی تسلیم کرلی گئی ہے‘ گویا عمران خان کا خیال حقیقت بننے کے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ جہاں تک باقی تمام سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے تو امریکا تالبان معاہدے کے ڈیڑھ سال بعد بھی وہ افغانستان کے واقعات پر کوئی نپی تلی رائے نہیں بنا سکیں۔ شاید انہیں یہ ادراک بھی نہیں کہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں پاکستان کا واحد مسئلہ افغانستان ہوگا۔ یہ جماعتیں بھول رہی ہیں کہ افغانستان کی کہانی کا ہر نیا باب نئے کرداروں سے لکھا گیا ہے۔ اب کے بھی یہی ہوگا۔ جو کہانی میں اپنی جگہ بنا گیا‘ بنا گیا۔ دوسروں کیلئے فی الحال تو لندن یا لاہور برابر ہیں۔

Comments are closed.