سینئر صحافی کے حیران کن دلائل

 لاہور (ویب ڈیسک) احتساب عدالت پیشی کے موقع پر مریم نواز نے اپنے چچا شہباز شریف سے ملاقات بھی کی ان کا یہ بیان سیاسی حوالے سے قابل غور ہے کہ عمران خان شہباز شریف کو انتقام کا نشانہ اس لئے بنا رہے ہیں کہ وہ انہیں اپنا متبادل سمجھتے ہیں۔

نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مریم نواز کی اس بات نے بہت سے شکوک و شبہات بھی دور کر دیئے ہیں۔ مثلاً یہ کہا جاتا ہے کہ مریم نواز شہباز فیملی کو پیچھے دھکیل کر خود آگے آنا چاہتی ہیں، وہ مسلم لیگ (ن) پر قبضہ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں تاکہ جماعت کو نواز شریف خاندان کی سیاسی وارث بنا  سکیں، مگر احتساب عدالت میں شہباز شریف سے ملاقات کے بعد ان کا یہ کہنا کہ عمران خان کا متبادل شہباز شریف ہیں اس سارے معاملے کو غلط ثابت کرتا ہے۔وہ شہباز شریف کو اپنے والد نوازشریف کی طرح اپنا قائد مانتی ہیں اور ان کی سیاسی بصیرت و تجربے کو مسلم لیگ (ن) کا اثاثہ سمجھتی ہیں اس وقت پورے سیاسی منظر نامے پر اگر کوئی شخص معاملات کو سلجھا سکتا ہے تو وہ شہباز شریف ہی ہیں انہوں نے اپنی شخصیت اور سیاست کو کسی انتہا پسندی کا شکار نہیں ہونے دیا۔ اسٹیبلشمنٹ کے لئے بھی شہباز شریف کے سوا ایسا کوئی وژن نہیں جس سے وہ اس ڈیڈلاک کا خاتمہ کر سکے جو اس وقت قومی سطح پر نظر آتا ہے اور رفتہ رفتہ ایک بڑے تصادم اور ایک بڑے انتشار کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نیب کے کیسز کا کوئی اعتبار نہیں، کب دائر ہوں اور کب ختم ہو جائیں، پہلے بھی یہی شہباز شریف نیب کے شکنجے میں آئے احد چیمہ بھی ان کے ساتھ پکڑے گئے، مگر ہوا کیا، خود نیب نے کیسز بند کر دیئے، شاید اسی لئے

مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان شہباز شریف کو باہر نہیں دیکھنا چاہتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں شہباز شریف اسمبلی کے اندر سے بھی ان کا متبادل ثابت ہو سکتے ہیں۔یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑے گی کہ شہباز شریف نے اپنی سیاست کو بڑے محتاط طریق ے آگے بڑھایا ہے۔ آج ان کے سیاسی حریف بھی تسلیم کرتے ہیں کہ شہباز شریف کی طرز سیاست نوازشریف سے مختلف ہے، عمران خان کو ان کے متبادل ہونے کا خطرہ اس وجہ سے بھی ہو سکتا ہے کہ شہباز شریف آج بھی اسٹیبلشمنٹ کو قابل قبول ہیں۔ انہوں نے کبھی بھی اپنے بیانیئے کو فوج یا اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نہیں جانے دیا کہا جاتا ہے کہ انہوں نے نیب  کو گرفتاری اس لئے دی کہ وہ پی ڈی ایم کے اس بیانیئے کی حمائت نہیں کرنا چاہتے تھے، جس میں قومی اداروں کو وزیر اعظم کی بجائے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے خود کو ایک نیوٹرل پوزیشن میں رکھا ہوا ہے۔اس پوزیشن میں رہتے ہوئے بھی اگر ان کے خلاف نیب کی کارروائیاں جاری ہیں تو اس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسا ہے جو نہیں چاہتا کہ شہباز شریف باہر رہ کر سیاسی کشیدگی کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں یا دوسرے لفظوں میں اسٹیبلشمنٹ کے لئے متبادل سوچنے کا ایک راستہ ثابت ہوں۔ شہباز شریف بلحاظ عہدہ پارلیمینٹ میں نمبر ٹو ہیں یعنی دو ہی عہدے اہم ہوتے ہیں، ایک وزیراعظم یعنی قائد ایوان اور دوسرا قائد حزب اختلاف، شہباز شریف اگر آئے ہوتے

تو قومی اسمبلی میں جمہوریت کے لئے اہم کردار ادا کر سکتے تھے۔ لیکن انہیں گرفتار کر لیا گیا اس وقت معتدل مزاج سیاستدان کوئی  نظر نہیں آتا سب نے تنقید کے نشتر تیز کئے ہوئے ہیں گزشتہ دنوں محمد علی درانی نے شہباز شریف سے قید میں ملاقات کی تو حکومت سے زیادہ اپوزیشن کی طرف سے اس پر تشویش کا اظہار کیا گیا اس کا مطلب ہے شہباز شریف میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ اپوزیشن کی تحریک کو بھی متاثر کر  سکتے ہیں۔مریم نواز نے شہباز شریف کو عمران خان کا متبادل کہہ کر ایک ایسے آپشن کی نشاندہی کر دی ہے جس کے بارے میں مقتدر طاقتیں شاید پہلے ہی غور کر رہی ہوں۔ابھی کل ہی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم حکومت کی تبدیلی آئینی اور جمہوری طریقے سے چاہتے ہیں ہم ایوان میں تحریک عدم اعتماد بھی لا سکتے ہیں ان کی اس بات کو مریم نواز کے اس بیان سے ملا کر پڑھا جائے کہ عمران خان کا متبادل شہباز شریف ہیں تو یہ گتھی سلجھ جاتی ہے کہ ایوان کے اندر سے تبدیلی کیسے ممکن ہو گی؟ پورے سیاسی منظر نامے پر شہباز شریف ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے شریف فیملی سے ہونے کے باوجود خود کو اس بیانیئے سے علیحدہ رکھا ہوا ہے جو نواز شریف کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) اپنائے ہوئے ہے۔ سیاسی بساط پر ایک معمولی سی غلطی یا اچھی چال پورا کھیل بدل دیتی ہے، دیکھتے ہیں ان میں سے کون سی چال مستقبل میں سامنے آتی ہے۔

Comments are closed.