سینئر وزیر علیم خان کے استعفے کے پیچھے چھپی ساری کہانی سامنے آگئی

لاہور(ویب ڈیسک)سینئر وزیر عبد العلیم خان نے ذاتی مصروفیات کی وجہ سے وزارت سے استعفیٰ دیدیا تاہم استعفے کو تاحال منظور نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق سینئر وزیر عبد العلیم خان نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا تاہم عمران خان نے علیم خان کو استعفاواپس کرتے ہوئے

کچھ دیر انتظار کرنے کو کہاتھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جواب کا انتظار ہے، میں ذاتی مصروفیت کے باعث مزید وزارت نہیں سنبھال سکتا، میں نے کئی سال سیاست میں وقت گزارا، اب کچھ وقت اپنی نجی لائف کو دینا چاہتا ہوں، میں نے پاکستان کے لئے بہت کام کیا اور مزید بھی پاکستان کیلئے کام کرتا رہوں گا۔ پتہ چلا ہے کہ پنجا ب کے وزیر خواراک عبدالعلیم خا ن نے وزیر اعظم سے وزات اعلی کا مطا لبہ کردیا ہے اور کہا ہے کہ اگر انہو ں وزیر اعلی پنجاب کا منصب نہ دیا گیا تو وہ نہ صرف مو جو دہ وزا ت سے مستعفی ہو جا ئیں گے بلکہ سیا ست سے ہی کنا رہ کشی اختیا ر کر لیں گے۔ ذرا ئع کا کہنا ہے کہ یہ موقف انہو ں نے رواں ہفتہ وزیا اعظم ومرا ن خان سے ملا قات میں اختیا ر کیا۔ذرا ئع کا کہنا ہے کہ علیم خا ن نے وزیر اعظم کو اپنی وزارت کا استعفی بھی پیش کی اور کہا کہ ان کی پی ٹی آئی کے لئے گرا ں قدر خد ما ت کا صلہ نہیں دیا گیا۔ذرا ئع کا مذید کہنا ہے کہ علیم خان نے وزیر اعظم سے یہ بھی کہا کہ چا ہیے تو یہ تھا کہ انہیں سنیا رٹی اور خد ما ت کے عوض انہیں پہلے دن سے ہی وزا را ت اعلی پنجا ب کاعہدہ دیا جا تا لیکن اگر ایسا ممکن نہیں تھا تو تیسرے سال ان کو خود ہی وزارات اعلی دی جا تی مگر یہا ں حالات یہ ہیں کہ زبا نی طور پر مجھے پنجا ب کے سینئر وزیر کاعہدہ دے دیا گیا مگر حالات یہ ہیں کہ تا حال اس کا نو ٹفکیشن نہیں ہو نے دیا لہذا ان حا لا ت میں تذ لیل سے بہتر ہے کہ وہ وزارت سے الگ ہو جا ئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *