سینئر کالم نگار کا بڑا دعویٰ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار امتیاز عالم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وفاقی معاشی رابطہ کمیٹی نے معاشی ضرورتوں کے تحت بھارت سے کپاس، دھاگہ، چینی اور گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا جس کی توثیق وزارت تجارت کے وزیر عمران خان اور دفتر وزیراعظم نے دے دی جس کا دنیا بھر میں اور

کاروباری حلقوں نے خیر مقدم کیا۔ یوں لگا جیسے اسلام آباد کے سیمینار میں وزیراعظم عمران خان اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جیو اسٹرٹیجک کی جگہ علاقائی معیشت کی اہمیت پہ زور دیا تھا، تجارت کی بحالی اسی کا ثمر ہے۔ لیکن اگلے ہی روز کابینہ نے اس فیصلے کو اُلٹ دیا یا ایک اور یوٹرن لے لیا۔ اس لال بجھکڑ قسم کی فیصلہ سازی پہ مشیر سلامتی امور نے تو گھامڑ پن کی حد ہی کردی اور کہا کہ ”وزیراعظم کا بھارت سے تجارت کی سمری منظور اور مسترد کرنا دو الگ باتیں ہیں“۔؟ مگر کابینہ نے سلامتی کے نئے معاشی نظریے کی ٹانگ اس پر توڑی ہے کہ جب تک بھارت 5اگست 2019ء کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کا فیصلہ واپس نہیں لیتا تب تک تجارت ہوگی نہ بات چیت۔ ایسے میں وزارت خارجہ کے بابو سر نہیں پیٹیں گے تو کیا کریں گے؟ اس کے باوجود کہ بیک چینل میں بات چیت جاری ہے، کابینہ کے فیصلے سے ایک بڑی سفارتی چھلانگ مخمصے کا شکار ہوگئی ہے۔ کچھ ایسا ہی جنوبی پنجاب کے سیکرٹریٹ کے قیام، پھر اس کے اختتام اور اب پھر اس کی بحالی کی پے درپے قلابازیوں کی صورت ہوا ہے۔ یہ سرائیکی علاقے کے فیڈرل کس منہ سے اگلے انتخاب میں اپنے وسیب جائیں گے؟ یہ تو سرائیکی سرائیکی محض عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے کھیلتے رہے ہیں اور یونہی دغا دیتے آئے ہیں۔ ان پر تکیہ کیسا؟ بائیکاٹ ازم کی بڑی شکار آجکل مقہور (اگر مغفور نہیں ہوئی) پی ڈی ایم ہے جو اب خیر سے سینیٹ میں دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ اگر سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کی پوزیشن اتنی ہی غیر اہم تھی تو اس پر باہم جو تم پیزاری کی نوبت کیوں آئی؟ آخر سیاسی بصیرت کہاں گھاس چرنے چلی گئی۔ بائیکاٹ ازم کا خمیازہ ایم آر ڈی بھگت چکی جس کے نتیجے میں پی این اے کے ڈنڈابردار قومی لیڈر بن گئے اور پیپلزپارٹی پنجاب سے فارغ کردی گئی۔ میاں نواز شریف، بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو دعا دیں کہ انہوں نے ان کو دو بارہ 2008ء کے انتخابات کے بائیکاٹ سے باز رکھا۔ اگر وہ بائیکاٹ پہ اڑے رہتے تو جانے ن لیگ کا کیا حشر ہوتا اور پیپلزپارٹی مشرف کے ہاتھوں کتنا خراب ہوتی۔ بھئی آخر ایسی کیا بڑی آفت ٹوٹ پڑی ہے۔ عمران حکومت آدھی سے زیادہ مدت خراب کر بیٹھی ہے، مدت پوری کرے گی تو اسے لگ پتہ جائے گا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *