سینیئر صحافی نے ان سنا واقعہ بیان کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) علامہ خادم حسین رضوی سے پہلی ملاقات جوہر ٹائون لاہور میں علامہ غلام عباس فیضی کے مدرسے و مسجد میں ہوئی۔ اس کا بھی ایک دلچسپ پس منظر ہے۔ خادم حسین رضوی کی کسی سے قربت کی وجہ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے وابستگی تھی۔

نامور کالم نگار فضل حسین اعوان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔دس سال قبل کی بات ہو گی میں نے ایک کالم کے آخر میں یہ لکھا تھا ’’حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہئے ان کا اقتدار نبی کریمؐ کے خاک پا کے صدقے ہے۔‘‘ مولانا کے بقول انہوں نے اس فقرے پر اپنے معتمد غلام عباس فیضی کو مجھ سے رابطے کیلئے کہا۔ پھر ان کے فون آنے لگے‘ میں بھی فون کر لیتا۔ ایک کالم میں واقعہ تحریر کیا کہ کس طرح ایک کتا بھرے دربار میں ایک عیسائی راہب پر جھپٹ پڑا تھا جب وہ ناموس رسالت میں گستاخی کر رہا تھا۔ علامہ خادم کے فون پر اس کا حوالہ پوچھنے پر میں نے بتا دیا۔ غلام عباس فیضی ربیع الاول ماہ کے آخری اتوارکو مدرسے میں فارغ التحصیل بچوں کی دستار بندی کراتے ہیں۔ انہوں نے مجھے بھی اس تقریب میں دعوت دی۔ عشاء کے بعد یہ تقریب ہوتی ہے۔ علامہ خادم حسین رضوی کو خطیب مکی داتا دربار کے قریب مکی مسجد میں خطابت کے باعث کہا جاتاہے۔ اپنے مسلک کے لوگوں میں وہ شہرت رکھتے تھے۔ عالمی سطح پر شہرت نومبر 2017ء کے فیض آباد دھرنے کے باعث ملی۔عشاء کے وقت میں بروقت مسجد پہنچ گیا۔ مسجد بھر چکی تھی۔ لوگ انکی آمد کے مشتاق تھے۔ مجھے دیگر مہمانوں کے ساتھ محراب و منبر کے سامنے دیگر مہمانوں کے ساتھ بٹھا دیا گیا، میرے بغیر سب جبہ و دستار والے حضرات تشریف فرما تھے۔ تھوڑی دیر میں علامہ صاحب کی آمد پرمسجد لبیک یا رسول اللہ کے نعروں سے گونج اُٹھی۔ ان کو وہیل چیئر پر لایا جا رہا تھا۔

وہیل چیئر ہی ان کیلئے منبر تھی۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ چلنے پھرنے سے قاصر اور وہیل چیئر انکی ضرورت ہے۔ شرکاء کا شوق و ذوق دیدنی تھا۔ ان دنوں ممتاز قادری کا کیس چل رہا تھا انکے حق میں نعرے بازی ہو رہی تھی۔ مہمانوں کے ہجوم میں بھی انہوں نے مجھے پہلی نظر میں پہچان لیا تھا۔ انکی تقریر کا ہمیشہ ایک ہی موضوع رہا، ناموس رسالتؐ ، شان رسالتؐ۔ اپنے خطاب میں انہوں نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ، گستاخ راہب کا واقعہ انہوں نے اپنے کالم میں بیان کیا اور میں نے وہ کتاب منگوالی جس میں واقعہ درج ہے۔ کتاب عربی میں تھی جو انہیں پشاور سے دستیاب ہو سکی۔وہ ایک دوروز قبل کا واقعہ سنا رہے تھے کہ کسی کی تعزیت کیلئے گئے تو سامنے سے انکو دیکھ کر جسٹس خواجہ شریف چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اپنی طرف آتے نظر آئے۔ میں نے کہا ’’کرسی موڑ او منڈیا، ایس ممتاز قادری دی ضمانت نئیں لئی۔‘‘ریٹائرمنٹ کے بعد خواجہ شریف نے ممتاز قادری کے وکالت کی تھی۔ علامہ کے خطاب کے بعد دستار بندی ہوئی۔ شرکاء وہیں کھانے کیلئے بیٹھ گئے۔ مسجد و مدرسے کے داخلے کے ساتھ ہی چھوٹی سی لائبریری ہے جس میں چھ کرسیاں رکھی ہیں۔ رضوی صاحب کو وہاں کھانا کھلایا جاتا۔ مجھے بھی وہیں انکے ساتھ لے جایا گیا۔ وہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔ تعارف میں انہوں نے بتایا کہ وہ بھی اعوان ہیں اور چکوال سے تعلق ہے۔ ’’اور پھر یہ رِضوی؟‘‘ میرے استفسار پر ان کا کہنا تھا یہ عاشق رسول اور شمع رسالت کے پروانے،

احمد رضا خان بریلوی کی نسبت ہے۔ غلام عباس فیضی کے مدرسے میں پھر کئی سال تک ان سے ملاقات ہوتی رہی آخری ملاقات 2017ء میں انکے فیض آباد میں دھرنے کے بعدآنے والے ماہ ربیع الاول کے آخری اتوار کو وہیں پر ہوئی۔ اس دھرنے نے علامہ کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔ انکی مصروفیات بڑھ گئیں۔ فون بھی انکے اسسٹنٹ آصف کے پاس ہوتا۔ موت سے زندگی کی طرف کتاب کیلئے علامہ نے دو واقعات کا ذکر کیا تھا۔بقول علامہ رضوی”میں لاہور سے اپنے گائوں جاتاتو صبح فجر کی اذان کے ساتھ کھیتوں میں اپنے کنویں پر چلا جاتا۔ جہاں کنواں چلا کر اسکے پانی سے وضو کر کے نماز ادا کرتا۔1995ء کی ایک صبح بھی حسب معمول میں نے کنواں تیزی سے چلایا اور اس سے بھی زیادہ تیزی سے برتن میں پانی ڈالنے کیلئے لپکا۔ برتن اٹھایا اسے پانی سے بھرنے کیلئے کنویں کے تھوڑے سے حصے کے اوپر چھلانگ لگادی مگر توازن بگڑ گیا اوردوسری طرف نہ پہنچ سکا۔ کنویں میں گرتے ہوئے بے ساختہ زبان سے اللہ اکبر نکلا۔ اسکے ساتھ ہی ایسا محسوس ہوا، کسی نے پکڑ کر’ سوتالڑ’ پر بٹھا دیا ہے۔ سوتالڑ ماہل کومتوازن رکھنے کیلئے شہتیر کی طرح لکڑی لگائی جا تی ہے جو کنویں کے کنارے سے چند فٹ نیچے ہوتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں ، اللہ نے دین کیلئے ناچیز سے کام لینا تھا اس لئے محفوظ رکھا۔ اسکے بعد 2009ء میں صبح کے وقت تلہ کنگ سے لاہور جا رہا تھا۔ ایک سی این جی سٹیشن سے گیس بھروائی ، مسجد میں نماز ادا کی نوافل

پڑھنے لگا تھا کہ سوچا گاڑی میں نفل ادا کر لوں گا۔ گاڑی میں بیٹھا۔ تھوڑی دیر بعد موڑ آیا تو مڑنے کی بجائے گاڑی سیدھی جا رہی تھی۔ ڈرائیور سو گیا تھا۔ میں نے کہا کیا کر رہے ہو،ساتھ ہی گاڑی سڑک سے نیچے آ گری۔ میں نے اس دوران ان لمحات کو آخری سمجھ کر تین مرتبہ کلمہ پڑھ لیا۔ اسی حادثے میں ریڑھ کی ہڈی متاثرہوئی جس کا کئی سال سے علاج جاری ہے۔ اس حادثے میں ڈرائیور اور کار کو خراش تک نہیں آئی”۔ اس واقعہ میں وہ چلنے پھرنے سے معذور ہو گئے تھے۔ یہ دیندار لوگ ہیں ہماری اور انکی زندگیوں میں بہت فرق ہے۔ 2017 اور چند روز قبل کے دھرنوں میں وہ اپنے بیٹوں کو بھی لے گئے تھے۔ جس کا تذکرہ انہوں نے اپنی زندگی کی آخری تقریر میں بھی کیا۔ وہ ہاتھ سے برائی روکنے کے ایمان کے درجے پر فائز تھے۔ غلام عباس فیضی کے حکومت کے ساتھ ہونے والے گزشتہ ہفتے کے معاہدے پر دستخط ہیں وہ بھی اپنے بیٹے سمیت دونوںدھرنوں میں شامل ہوئے۔ ہم لاہور سے ایک بڑے سٹور سے ہر ماہ خریداری کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ وہ فرنچ فرنچائز ہے‘ تواس کا بائیکاٹ کردیا وہاں خریداری کیلئے نہیں گئے۔ یہ ہم دنیاداروں کی طرف سے شاید ایمان کاآخری درجہ ہے۔آج ان کا جنازہ ہے ۔اللہ تعالیٰ پاسبانِ ختم نبوت کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔انکے چاہنے والوں کو صبرِجمیل عطا کرے اور انکی سیاست کا علم بلند رکھنے والوں کو انتشار سے بچائے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *