سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کروانے کے معاملہ پر صدارتی آرڈیننس کی حقیقت کیا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔عمران حکومت تاہم ووٹ کی خریدوفروخت‘‘ روکنے کے مشن پر ڈٹ گئی۔اپوزیشن جماعتوں پر چھائے ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کو آئین میں ترامیم کے لئے مذاکرات پر مدعو کرنے کے بجائے سپریم کورٹ کے روبرو اپنی فریاد لے گئی۔

صدر مملکت کی وساطت سے پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت سے درخواست ہوئی کہ ماضی کی ’’گندی‘‘ روایات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ’’کھلے‘‘ انتخاب کی ہدایت جاری کی جائے۔حکومت کی فریاد پر سپریم کورٹ میں ابھی غور جاری تھا کہ حکومت آئین میں ترمیم کی تجویز لے کر قومی اسمبلی بھی چلی گئی۔حکومت کی تجویز کردہ ترمیم پر سنجیدہ بحث مباحثے کے بجائے ایوان میں مغلطات اور دھکم پیل کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ مجوزہ ترمیم پر ووٹنگ کے بغیرہی قومی اسمبلی کا اجلاس مزید ہنگامہ آرائی سے بچنے کے لئے ’’اچانک‘‘ ختم کردیا گیا۔ حکومت اگرچہ چین سے نہیں بیٹھی۔ہفتے کے روز صدر کے ذریعے ایک آرڈیننس جاری کردیا گیا ہے جو کھلے انتخاب کی راہ بناتا ہے۔قانون سازی کا مسلمہ اصول ہے کہ کوئی فیصلہ کرتے ہوئے ’’اگر‘‘ کا استعمال نہیں ہوتا۔ہفتے کے روز جاری ہوا آرڈیننس اس تناظر میں ’’تاریخی‘‘ہے کیونکہ اس میں سپریم کورٹ کے متوقع فیصلے کی بابت ’’اگر‘‘ کا استعمال ہوا ہے۔فرض کیا کہ سپریم کورٹ بالآخر اس نتیجے پر پہنچی کہ خفیہ رائے شماری سے وابستہ تمام تر قباحتوں کے باوجود کھلا انتخاب کروانا آئین میں ترمیم کئے بغیر ممکن نہیں تو حکومت کی بہت سبکی ہوگی۔حکومت کی فریاد مان لی گئی تو عدلیہ کی آزادی اور ساکھ کی بابت وسوسے پھیلائے جائیں گے۔ حکومت اس کے باوجود یہ پیغام دینے میں ہر صورت کامیاب رہے گی کہ سینٹ کی خالی ہونے والی نشستوں پر ووٹ کی خریدوفروخت کو روکنے کے لئے اس نے ہر ممکنہ قدم اٹھانے سے گریز نہیں کیا ۔’’اصولی مؤقف‘‘ پرڈٹی رہی۔ روایتی اور سوشل میڈیا پر حاوی ’’بیانیوںکی لڑائی ‘‘ کے

یرغمال ہوئے سیاسی کھیل میں یہ ایک توانا ترین پیغام ہوگا۔ اس کی تکرار اپوزیشن جماعتوں کو ’’نظام کہنہ‘‘کے عادی ’’چور اور لٹیروں‘‘کی صورت پیش کرے گی۔پراپیگنڈہ محاذ پر کامیابی وکامرانی کے جھنڈے بلند کرنے کے جنون میں مبتلا تحریک انصاف کے نورتن مگر یہ سمجھ نہیں پارہے کہ کھلے انتخاب کے لئے اپنائی ان کی ضد یہ پیغام بھی دے رہی ہے کہ عمران خان صاحب کو تحریک انصاف کی نشستوں پر بیٹھے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی نیت پر اعتبارنہیں رہا۔ان کی مؤثر تعداد ’’خودمختار‘‘ ہونے کو بے چین ہے۔ اس تناظر میں پیغام یہ بھی پھیلے گا کہ ہفتے کے دن جاری ہوا ا ٓرڈیننس درحقیقت ووٹ کی خرید وفروخت روکنے کے لئے نہیں بلکہ حکمران جماعت میں ابھرتی حقیقی یامفروضہ ’’بغاوت‘‘ کے قلع قمع کی گھبراہٹ دکھاتی کوشش ہے۔ریاست کے دیگر ستونوں سے بھی اس تناظر میں معاونت کی درخواست ہوئی ہے۔صاف ستھری اور اصولی سیاست کے فروغ پر اپنے تئیں مامور تحریک انصاف ’’نئے پاکستان‘‘ میں یقینا حیران کن فیصلے کررہی ہے۔کئی حوالوں سے اس کی جرأت داد کی مستحق ہے کیونکہ اپنے مشن کی تکمیل کے لئے اس نے پارلیمان کے بجائے ریاست کے دیگر ستونوں سے بھی کھلے بندوں مدد مانگ لی ہے۔اپوزیشن جماعتوں میں موجود ’’کائیاں اور تجربہ کار‘‘ سیاست دانوں کا ہجوم اس کے ’’حسنِ کرشمہ ساز‘‘ سے ہکا بکا ہوگیا ہے۔اعلیٰ عدالت کے روبرو گڑگڑانے کے علاوہ اسے کوئی اور راہ نظر نہیں آرہی۔ عمران حکومت اپنی ضد اورترجیح کے مطابق سینٹ کی 48نشستوں پر انتخاب کروانے میں کامیاب ہوگئی تو خفیہ رائے شماری کی ’’برکت‘‘ سے حیران کن نتائج دکھانے کے منصوبے ’’اُڑنے بھی نہ پائے تھے…‘‘ والے مخمصے کا شکار ہوجائیں گے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *