سینیٹ الیکشن کے بعد عوام کیا سوچ رہے ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد عامر خاکوانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔حالیہ سینٹ انتخابات میں گیلانی صاحب نے جو کردار ادا کیا، اس کے بعد ان کے لئے حسن ظن باقی نہیں رہتا۔ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے ساتھ چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات میں جو کچھ ہوا،

وہ اس کی خود ذمہ دار ہے۔ انہیں سینٹ میں بدترین شکست اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ گیلانی صاحب کو ووٹ خرید کر سینیٹر بنا لینے سے پی ڈی ایم کے قائدین خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ پیپلزپارٹی والے ایک زرداری سب پر بھاری کے نعرے لگا رہے تھے تو جناب مولانا فضل الرحمن بھی اپنی بے پناہ مسرت نہیں چھپا رہے تھے۔ مریم نواز شریف اسے ضمیر کی فتح قرار دے رہی تھیں۔ اب سنجرانی صاحب اور مرزا آفریدی صاحب کی فتح کے بعد ان سب کے لئے کہنے کو کیا بچا ہے؟ پی ڈی ایم کے لئے سنہری موقعہ تھا کہ سینٹ انتخابات سے پہلے حکومت کی جانب سے اوپن بیلٹنگ کی پیش کش آنے کو وہ سنہری موقعہ سمجھ کر آئینی ترمیم پر رضامند ہوجاتی۔ اس سے انہیں صوبائی اسمبلیوںاور قومی اسمبلی سے اپنی عددی اکثریت کے مطابق نشستیں مل جاتیں اور چونکہ ایک دو ووٹ سے ان کی اکثریت قائم ہوجانا تھی،اوپن بیلٹنگ سے وہ اپنی مرضی کا چیئرمین یا ڈپٹی چیئرمین بنوا لیتے۔ اضافی فائدہ یہ ہوجاتا کہ سینٹ انتخابات شفاف طریقے سے ہونے کے بعد ایک نئی جمہوری روایت قائم ہوجاتی ۔ یہ تاثر پیدا ہوتا کہ سیاسی جماعتیں اپنے شدید اختلافات کے باوجود جمہوریت اور سسٹم کو بچانے کے لئے اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ افسوس کہ اس اہم موقعہ کو اپوزیشن نے گنوا دیا۔ سینٹ کے انتخابات میں اتنا گند پڑا کہ جمہوریت اور سیاست کا چہرہ ہی دھندلا گیا۔ میں نے بہت سے لوگوں کو یہ کہتے سنا کہ جو مرضی جیتے، ہمیں کوئی دلچسپی نہیں کہ دونوں طرف ایک ہی طرح کے حربے آزمائے جا رہے ہیں۔ یہ تاثر قائم ہونا سیاستدانوں کے مفاد میں نہیں۔ اس سے صرف اسٹیبلشمنٹ ہی کو فائدہ پہنچتا ہے۔پی ڈی ایم چونکہ آئین، اصولوں اور جمہوریت کی علمبردار ہے، اس لئے اس پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔پی ڈی ایم نے اپناتمام اثاثہ اس الیکشن میں لٹا دیا۔ اب ان کے پاس جذباتی طعنوں اور کھوکھلے فقروں کے سوا کچھ نہیں بچا۔ پی ٹی آئی جیت گئی، مگر اسے بھی کچھ خاص حاصل نہیں ہوا۔عمران خان کو البتہ چند ماہ کا وقت ضرور مل گیا ہے ۔ وہ کتنا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، یہ ان پر منحصر ہے۔ پنجاب میں کچھ کرنے کے لئے البتہ چہرے کی تبدیلی ضروری ہے۔ وقت تیزی سے گزرتا ہے۔ ڈھائی سال بیت گئے، چند ماہ کی مہلت بھی جلد ختم ہوجائے گی۔ وقت کا دھارا معاملات پھر اپنے منطقی انجام کی طرف لے جائے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.