سینیٹ الیکشن کے لیے ووٹوں کی خریدوفروخت کا سلسلہ پاکستان میں کب شروع ہوا تھا ؟

کراچی (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کارسہیل وڑائچ کاکہناتھا کہ سینیٹ میں ووٹوں کی خریدوفروخت 1985سے چل رہی ہے،سینئر تجزیہ کار محمل سرفراز نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں پیپلزپارٹی متنازع بن رہی ہے ۔ یوسف رضا گیلانی اورحفیظ شیخ کاانتخاب اس لئے اہم تھا

کیوں کہ یہ گیم چینجرتھا ۔اس انتخاب میں حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے نظر آئی ۔ملک کے حالات سے نہیں لگتا کہ کوئی بڑی تبدیلی آرہی ہے یا حکومت جانے والی ہے سب کچھ جیسا چل رہا ہے ایسے ہی چلتا رہے گا ۔ سینیٹ میں ووٹوں کی خریدوفروخت 1985سے چل رہی ہے ۔تاریخ میں ایسا بھی ہوا کہ ایک خاندان کے پانچ افراد سینیٹ کے ممبر بن گئے جن کا کسی پارٹی سے تعلق نہیں تھا انہوں نے ووٹ خریدے ،ساز باز کی اور سینیٹر بن گئے۔ امیراراکین اسمبلی اپنے کاروبار کا تحفظ کرتے ہیں جس کیلئے سینیٹ میں بھی وہ اپنے مفادات کوملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔علی حیدرگیلانی کی ویڈیو کاسامنے آنا اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ عوام میں شعور آرہا ہے ۔سینیٹ انتخابات کوشفاف بنانے کیلئے اقدامات ناگزیر ہیں۔ایک طرف سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بات کرتی ہیں دوسری جانب ووٹ دینے والے اراکین کو ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا یہ کھلا تضاد ہے ۔جب تک قانون سازی نہیں ہوگی اس وقت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔

Comments are closed.