شائستہ پرویز مان کیوں نہیں رہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اشرف شریف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پرویز ملک کی وفات کے بعد مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے لئے امتحان آن پڑا ہے۔لاہور کے حلقہ این اے 133میں اگر مسلم لیگ کامیاب ہوتی ہے تو تحریک انصاف کے غیر مقبول ہونے کا بیانیہ فروغ پائے گا‘تحریک انصاف

کامیاب ہو تو تاثر جائے گا کہ مسلم لیگ لاہور میں اپنی سیٹ نہیں بچا سکی‘اگلے الیکشن میں کیا جیتے گی۔ ایک فہرست اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔فہرست میں ان لیگی ارکان کے نام ہیں جنہیں پی ٹی آئی کے جمشید اقبال چیمہ کے مقابل ضمنی انتخاب لڑنا ہے۔شائستہ پرویز چونکہ مخصوص نشست پر رکن قومی اسمبلی ہیں اس لئے خیال ہے کہ شاید انہیں ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کا امیدوار بنا دیا جائے۔ان کے مخصوص نشست چھوڑنے سے مسلم لیگ ن کی کوئی اور خاتون خود بخود منتخب ہو جائے گی۔دوسرا خیال یہ ہے کہ شائستہ پرویز اپنے چھوٹے بیٹے کو امیدوار بنانا چاہتی ہیں۔اس حلقے سے امیدوار کے طور پر سابق لارڈ میئر خواجہ حسان‘ سابق لارڈ میئرحاجی حنیف اور عباس شریف مرحوم کے فرزند یوسف عباس کا نام لیا جا رہا ہے۔ہمارے ذرائع اس سے الگ کی خبر دیتے ہیں۔ممکن ہے ابھی کچھ اور ناموں پر بھی غورو فکر کیا جائے تاہم اب تک جن دو ناموں پر پارٹی قیادت یکسو دکھائی دے رہی ہے وہ عطا تارڑ اور سابق ایم این اے نصیر احمد بھٹہ ہیں۔خواجہ سعد رفیق پارٹی کے اندر اپنی پسند کے کسی امیدوار کو ٹکٹ دلانا چاہتے ہیں۔نصیر احمد بھٹہ کو نواز شریف کے قریب سمجھا جاتا ہے۔عطا تارڑ شہباز شریف اور مریم دونوں کے قابل اعتماد ہیں تاہم دونوں ضمنی انتخابات کا خرچ نہیں اٹھا سکتے۔ اس آپشن کو مد نظر رکھ کرمسلم لیگی قیادت نے پارٹی کے متمول اراکین سے ملاقاتیں شروع کر دی ہیں۔انتخابی اخراجات کے لئے رابطے کئے جا رہے ہیں۔

این اے 133کسی زمانے میں پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور کے مختلف علاقوں میں قائم کچی آبادیاں ختم کر کے ٹائون شپ اور گرین ٹائون میں لوگوں کو ساڑھے چار مرحلے کے کوارٹر الاٹ کئے۔قائد اعظم انڈسٹریل سٹیٹ اسی حلقے میں ہے۔یہاں مزدور تنظیمیں فعال تھیں۔ایک مدت تک دوسری جماعت یہاں قدم نہ جما سکی۔1985ء کے انتخابات میں صمد بونڈ والے ‘میاں فضل حق نے صوبائی نشست پر سہیل ضیا بٹ کو ہرایا۔اس حلقے پر آج بھی فضل حق کے اثرات ہیں ،وہ اگر سیاست نہ چھوڑتے تو کوئی جماعت جیت نہ پاتی۔1985 میںقومی اسمبلی کی نشست لیاقت بلوچ نے جیتی۔پیپلز پارٹی نے بائیکاٹ ختم کر کے اگلا انتخاب لڑا تو خواجہ احمد طارق رحیم یہاں سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔خواجہ طارق رحیم ٹھیکیدار مافیا کے ہاتھ لگ گئے جن کا ووٹر سے تعلق نہ تھے۔پارٹی غیر مقبول ہونے لگی۔مزدور یونین دم توڑ گئیں۔پارٹی ان وعدوں سے دور ہوتی گئی جن کی وجہ سے محنت کش طبقات اس کے ساتھ وابستہ تھے۔میاں فضل حق کی مقبولیت کو کیش کرانے کے لئے پیپلز پارٹی نے دو بار ان سے ٹکٹ کا وعدہ کیا اور انتخابی اخراجات کا بوجھ ڈالا۔ان کی مدد سے پیپلز پارٹی یہاں زندہ رہی ۔فضل حق مسلم لیگی ہیں لیکن ماڈل ٹاون کی سیاست کے باعث شریف برادران سے تعلقات بگڑ گئے‘ وہ سیاست سے کنارہ کش ہو گئے ، اس حلقے کو ان سے بہتر امیدوار پھر نہ مل سکا۔یہاں سے عبدالعلیم خان اور طاہر القادری نے انتخاب لڑا۔قادری صاحب رکن منتخب ہو کر غائب ہو گئے۔بعدازاں اس ایک حلقے کے دو حلقے بنا دیے گئے۔

2008ء میں اسحاق ڈار 2013ء میں وحید عالم اور 2018ء میں یہاں سے پرویز ملک کامیاب ہوئے۔مسلم لیگ نے اس حلقے میں ہمیشہ مقامی ایم پی اے اور حلقے سے باہر کا ایم این اے لانے کی پالیسی پر عمل کیا۔اخراجات ایم پی ایز اٹھاتے رہے ہیں۔ این اے 133میں مسلم لیگ کا ووٹ مزدوروں کی اس اولاد نے توڑا جو تعلیم حاصل کر کے حکومتی اور ریاستی مدد سے محروم رہی۔ان لوگوں کو گھر سے ایک نظریاتی تربیت میسر رہی تھی۔اکثر لوگوں نے پرائیویٹ نوکریاں کیں یا اپنا چھوٹا موٹا کاروبار کر کے خوشحالی پائی۔پیپلز پارٹی کی غیر فعالیت کے نتیجے میں ان کا بڑا حصہ پاکستان تحریک انصاف کا حامی بن گیا۔2018ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے اعجاز چوہدری لگ بھگ آٹھ ہزار کے فرق سے ہارے تھے۔اس وقت عمران خان کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ایم پی ایز کی نشستوں پر غلط ٹکٹ کا پی ٹی آئی کو نقصان ہوا‘اگرچہ نذیر چوہان صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے لیکن حلقے میں ان کی ساکھ اور ووٹر سے رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ضمنی انتخاب میں نذیر چوہان کی جانب سے کسی طرح کی مدد پی ٹی آئی کو ملنے کا امکان نہیں۔یوں ووٹ کے فرق کو مزید 5ہزار بڑھایا جا سکتا ہے۔مہنگائی نے تحریک انصاف کی مقبولیت کو غیر معمولی نقصان پہنچایا ہے۔اس حلقے میں مہنگائی سے متاثرہ افراد کی اکثریت ہے۔تحریک انصاف کے حامی اب توبہ کر رہے ہیں۔اس صورت حال کو 8ہزار کا مارجن بنائیں تو مجموعی طور پر مسلم لیگ کے امیدوار کو پی ٹی آئی پر 21ہزار ووٹوں کی برتری ہو سکتی ہے۔بشرطیکہ ووٹنگ کی شرح 35فیصد سے زاید رہے۔ مسلم لیگ کے لئے بڑا چیلنج داخلی تقسیم ہے۔تحریک انصاف کے لئے مہنگائی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔یہاں تحریک لبیک کے ووٹر موجود ہیں۔دونوں بڑی جماعتوں کے کچھ ناراض ارکان بھی میدان میں کودنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔حلقے میں مسلم لیگی ووٹر کا خیال ہے کہ مریم نواز کی مرضی سے فیصلہ ہوا یا مریم حلقہ میں آئیں تو مسلم لیگی امیدوار کی برتری کا مارجن کم ہو سکتا ہے۔یہاں حمزہ شہباز کے رابطے سرگرم اور فعال ہیں۔مسلم لیگ ن کی طرف سے امیدوار کا حتمی فیصلہ ہونے کے بعد دونوں امیدواروں کا تقابل کیا جا سکے گا۔ سر دست ایک عمومی جائزہ بتاتا ہے کہ سیاست میں روپے کی اہمیت کم نہیں کی جا سکی ،جس کے پاس پیسے ہیں سیاست کا حق بھی اسی کو ہے ۔