شائستہ پرویز ملک کے مقابلے پر اب کون سا مضبوط امیدوار میدان میں ہے ؟

لاہور (یب ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے جمشید اقبال چیمہ اور مسرت چیمہ کی اپیلوں کے مسترد ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے حلقہ 133(لاہور 11) کا الیکشن یک طرفہ ہو گیا ہے۔ مقابلہ 5-دسمبر کو پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں اور دوسرے 9 آزاد امیدواروں کے درمیان ہوگا۔

حلقہ کے اندر تحریک انصاف کی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں ہیں۔ جبکہ حلقہ کے اندر تحریک لبیک کے حامیوں نے بڑی تعداد میں جھنڈے لگا رکھے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ تحریک لبیک کے امیدوار کے کاغذات نامزدگی تکنیکی بنیادوں پر مسترد ہو گئے تھے۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کی امیدوار شائستہ پرویز ملک کی انتخابی مہم چلانے والوں نے حلقہ کی یونین کونسلوں کے لیگی نمائندوں سے مل کر ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم تیز کردی ہے۔ ان میں صوبائی اسمبلی کی ارکان کی خاصی تعداد شامل ہے۔ ان میں ایم پی اے رابعہ فاروقی کا بمعہ خواتین ٹیم، چیئرمین عامر شوکت، کونسلر انجم منظور وارڈنمبر 6، علی جٹ صدر جوہر ٹاؤن ورکر فیضان جٹ، ورکر جبار گجر، ڈسٹرکٹ ممبر رخشندہ عاطف، لیڈی کونسلر رضوانہ ادریس، لیڈی کونسلر حفصہ، یاسمین اختر، رضیہ علی، سمعیہ جٹ، رقیہ انور، کے ہمراہ یو سی 220 وارڈ نمبر 6 کی ڈور ٹو ڈور مہم مکمل ہو گئی ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری اسلم گل کی انتخابی مہم میں کوئی جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آیا۔ ان کے علاوہ 9 آزاد امیدواروں میں سے بعض نے اپنے انتخابی دفاتر بھی نہیں کھولے۔ اس کے مقابل مسلم لیگ (ن) نے ہر یونین کونسل میں آٹھ انتخابی دفاتر قائم کئے ہیں جو دن رات کام کر رہے ہیں۔ ان ووٹروں کا کہنا ہے کہ وہ 5 دسمبر کو ہونے والے الیکشن میں مہنگائی کے خلاف ووٹ دیں گے۔

Comments are closed.