شائستہ پرویز کا بڑا جوڑ کس آزاد امیدوار سے پڑے گا ؟

لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 133کے آئندہ ماہ پانچ دسمبر کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں روائتی سیاسی مخالف جماعتوں مسلم لیگ (ن) کی شائستہ پرویز ملک اور پیپلز پارٹی کے چودھری محمد اسلم گل کے مابین مقابلہ ہو گا جبکہ یہ شائد ضمنی الیکشن کی تاریخ کا پہلا موقع ہو گا

کہ جس میں حکمران جماعت کا کوئی بھی امیدوار الیکشن میں حصہ نہیں لے رہا ہے۔یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکمران جماعت کے جمشید اقبال اور ان کی کورننگ امیدوار جو کہ ان کی اہلیہ بھی ہیں مسز جمشید اقبال چیمہ کے کا غذات نامزدگی مسترد ہو گئے جس کے لیئے انہوں نے الیکشن ٹربیونل میں اپیل کی لیکن وہاں سے بھی ان کوکوئی ریلیف نہ ملا الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امیدواروں کے لیئے کاغذات نامزدگی کی اپیلوں کے لیئے نو نومبر تک کا وقت مقرر تھا اب چونکہ یہ تاریخ بھی گزر چکی ہے اب اس ضمنی الیکشن میں وہی امیدوار حصہ لے سکتے ہیں جن کے کاغذات نامزدگی منظور کیئے جا چکے ہیں البتہ ان آزاد امیدواروں میں سے اگر کوئی بھی اس الیکشن سے دستبردار ہونا چاہتا ہے تواس کے پاس یہ حق محفوظ ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ اب اس حلقہ سے کچھ آزاد امیدوار بھی الیکشن میں اپنی قسمت آزمائی کریں گے۔الیکشن کمیشن کی فہر ست کے مطابق جن امید واروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے ہیں ان میں بھٹہ مزدورں کی لیبر لیڈر سیدہ غلام فاطمہ گیلانی،حبیب اللہ آزادامیدوار،عرفان خالد آزادامیدوار،جمیل احمد کورننگ امیدوار اسلم گل،محمد حفیظ آزادامیدوار،محمد نواز آزاد امیدوار،رانا خالد محمود کورننگ امیدوار شائستہ پرویز ملک،سہیل شہزاد آزادامیدوار،سیدایاز حسین شاہ،واکف تہمسیب کیانی آل پاکستان مسلم لیگ جبکہ شائستہ پرویز کے کورننگ امیدوار کے طور پر نصیر بھٹہ کے کاغذات بھی منظور کیئے گئے ہیں۔اس بات کابھی امکان ہے کہ اس ماہ کے آخری دنوں میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی کسی عوامی جلسہ سے خطاب کرکے وہاں کی عوام سے اپنے امیدوار کوووٹ دینے کی اپیل کریں گے،دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا بھی یہ کہنا ہے کہ انتخابی مہم کے آخری ایام میں مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز کا اس حلقہ میں دورہ متوقع ہے جس میں وہ ووٹرز سے ملاقات کرکے ان سے شائستہ پرویز ملک کوووٹ دینے کی درخواست کریں گی، سیاسی حلقوں کے مطابق اس حلقہ میں بظاہر سیاسی طور پر مضبوط پوزیشن تو مسلم لیگ (ن) کی ہی ہے اور مرحوم پرویز ملک کا تعلق بھی مسلم لیگ (ن) سے ہی تھا اس لیئے یہاں سے مسلم لیگ (ن)کو کامیابی کے لیئے کوئی خاص محنت نہیں کرنی پڑے گی۔

Comments are closed.