شاعر روحی کنجاہی اور لاہور کے ایک امیر کبیر بٹ صاحب

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اشرف شریف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔روحی کنجاہی استاد شاعر ہیں۔ شاگرد امیر ہو جاتے ہیں ،نواب شیفتہ اور بہادر شاہ طفر ہو تے ہیں،استاد چاہے غالب ہو جائے،ہمیشہ غریب ہوتا ہے۔ روحی صاحب بھی غریب ہیں۔ کوئی بیس برس ہوتے ہیں ،ہم روزنامہ دن میں اکٹھے کام کیا کرتے۔

روحی صاحب قطعہ لکھتے۔ رئیس امروہوی کے بعد قطعہ نگاری میں روحی صاحب نے نام پیدا کیا۔ان کے قطعات اپنے موضوع اور فنی پختگی کے باعث لاجواب ہیں۔ غزل کے ایسے شاعر کہ منیر نیازی‘ منیر سیفی‘ شہزاد احمد اور خالد احمد ان کے قدر دان اور احباب تھے۔ اس شعلہ خو کی طرح بگڑتا نہیں کوئی تیزی سے اتنی آگ پکڑتا نہیں کوئی خود کو بڑھا چڑھا کے بتاتے ہیں یار لوگ حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی یہ رنگ بھی روحی کنجاہی کے ہاں نظر آتا ہے۔ نظر تازہ اخبار پر ہو نہ ہو دلوں کو دلوں کی خبر ہو نہ ہو مرا شہر آخر مرا شہر ہے مرا شہر میں کوئی گھر ہو نہ ہو یہ شعر کیسا چونکا دیتا ہے۔ عجیب شرط ہے ان منظروں کی اے روحیؔ کہ اپنی آنکھیں کوئی خود نکال کے دیکھے روحی صاحب کا نام کئی دلوں میں گدگدی کر دیتا۔ راولپنڈی سے دن اخبار کا اجرا ہوا۔ ہمارے ایک ساتھی کو گپیں ہانکنے کا شوق تھا۔ ایک بار کہنے لگے میری روحی کنجاہی صاحبہ سے بات ہوئی ہے۔ اچھی خاتون ہیں۔ میں بھی چپ رہا کہ ان کی خیالی ملاقات کے مرحلوں سے لطف اٹھائوں۔ ہمیں کئی لوگ خط بھیجتے کہ روحی صاحبہ کا رابطہ نمبر دے دیں۔ کئی ان سے بات کرنے کے لیے فون کرتے۔ ہم گھر کا پی ٹی سی ایل نمبر دے دیتے جہاں محکمہ آبپاشی سے ریٹائر روحی کنجاہی ہم کلام ہوتے۔ ان دنوں میں میگزین ایڈیٹر تھا۔ دن اخبار کی چیف ایگزیکٹو آپا صبیحہ افضل تھیں۔

ان کی دوست کے خاوند کو شاعری کا شوق چرایا۔ آپا صبیحہ نے ان کی غزل مجھے بھجوا دی۔ میں نے کچھ درست کر کے شائع کردی۔ وہ صاحب اگلے ہفتے براہ راست میرے پاس نئی غزل لے آئے۔ میں نے چائے پلائی۔ علمی و ادبی گفتگو کی اور ساتھ ہی غزل شائع کرنے سے معذرت کرلی۔ انہوں نے آپا سے گلہ کیا۔ آپا صبیحہ کو مجھ پر بھروسہ تھا۔ کہا کہ ان کی بیگم سے دوستی ہے‘ کچھ ٹھیک کر کے چھاپ دیں۔ میں نے بٹ صاحب کو اگلے دن بلایا اور کہا کہ ان کی غزل چھپ سکتی ہے لیکن وہ کسی استاد کو دکھا لیا کریں۔ بٹ صاحب ساٹھ سال کی عمر کے ہوں گے۔ اونچے لمبے‘ سفید بڑی بڑی مونچھیں‘ بولے آپ ہی استاد بن جائیں۔ میں نے بتایا کہ شاعری کرتا ہوں لیکن استاد نہیں۔ انہوں نے اصرار کیا تو میں نے روحی کنجاہی صاحب کے گھر کا پتہ دے دیا۔ بٹ صاحب امیر آدمی تھے اور شاعر بننے کے لیے بیتاب۔ ادھر روحی صاحب پورے شاعر۔ پتہ ہی نہ چلتا کہ کب اکھڑ جائیں۔ بٹ صاحب کی غزل دیکھی اور بے مروتی سے کہہ دیا‘ آپ شاعری نہیں کر سکتے۔ بٹ صاحب منتیں کر رہے تھے اور روحی صاحب انہیںشاگرد بنانے پر تیار نہیں۔ بٹ صاحب سوٹ بوٹ والے آدمی تھے لیکن جانے کہاں سے شعر ان کے دل کو ڈس گیا تھا کہ وہ غریب استاد کی دہلیز پر بیٹھ گئے۔ روحی صاحب کو ترس آ گیا۔ کہا! آپ کی غزل کی اصلاح ممکن نہیں۔ آپ مجھ سے غیر مطبوعہ غزل لے جائیں

لیکن اس کا معاوضہ دے دیں۔ بٹ صاحب حلقہ ارباب ذوق کے اگلے اجلاس میں شیڈول تھے۔ انہوں نے ہزار روپے کا نوٹ استاد کی مٹھی میں دیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے رخصت ہوئے۔ بٹ صاحب اس کے بعد بھی چند بار روحی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ روحی صاحب حساس آدمی ہیں۔ ہمارے دوست ڈاکٹر خالد جاوید جان نے ٹائون شپ میں اپنا دفتر بنایا تو ایک حصہ ادبی محفلوں کے لیے مختص کردیا۔ منیر نیازی‘ اطہر ندیم صاحب‘ روحی کنجاہی‘ رائو شفیق مرحوم اور میں مستقل شریک ہوتے۔ کبھی کبھی افضل ساحر‘ اعجاز اللہ ناز اور دیگر احباب بھی تشریف لے آتے۔ روحی صاحب کا فرزند شہزاد اچھا افسانہ نگار ہے۔ شہزاد اور بابر دونوں زندگی میں آگے نہ بڑھ سکے۔ گھر بک گیا۔ پچھلے دس بارہ سال سے کرائے پر ہیں۔ عمر 84 برس ہو گئی ہے۔ قوت سماعت پہلے ہی کمزور تھی۔ اب چلنا پھرنا مشکل بلکہ ناممکن ہو گیا ہے۔ ہمارے دوست پروفیسر ناصر بشیر نے ان کی تصویر پوسٹ کی ہے۔ تنگدستی کے باوجود روحی صاحب صاف ستھرے رہا کرتے۔ تصویر میں بڑھی ہوئی شیو اور پس منظر نے ادا س کردیا ہے۔ پنشن کے علاوہ مشاعروں سے کچھ کام چل جاتا تھا۔ موجودہ حکومت نے ایسی سرگرمیوں کو ویسے ہی بھلا دیا ہے۔ کورونا کی وجہ سے نجی مشاعرے بھی بند رہے ہیں۔ اکادمی ادبیات سے کسی زمانے میں وظیفہ ملا کرتا تھا۔ شاید اب بھی مل رہا ہو لیکن روحی صاحب کو اس وقت زیادہ کی ضرورت ہے۔شاعر سماج کی رونق اور سماعتوں میں جادو گھولنے والے لوگ ہوتے ہیں،ان کے بول نغموں کا عنوان ہوتے ہیں،روحی صاحب ہم سب کی محبت کے منتظر ہیں: پر ہول خرابوں سے شناسائی مری ہے ہنگامے اگر تیرے ہیں تنہائی مری ہے اے حسن تو ہر رنگ میں ہے قابل عزت میں عشق ہوں ہر حال میں رسوائی میری ہے

Comments are closed.