شاہزیب خانزادہ نے بریکنگ نیوز دے دی

کراچی (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان نےتجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب تمام توجہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ کراچی پر ہے، وزیراعظم اعلان کریں پھر اس پر عملدرآمد بھی کروائیں، سند ھ حکومت سنجیدگی سے کراچی کے مسائل حل کرے تو کراچی کے عوام کے حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔

آرمی چیف اور شہباز شریف کے بعد وزیراعظم عمران خان کراچی آرہے ہیں، ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کریں گے، خبریں آرہی ہیں کہ وزیراعظم کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت 802ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کریں گے، سندھ حکومت تسلیم کرتی ہے کہ انہوں نے کراچی کے عوام سے وعدے تو کیے مگر پورے نہیں کیے،کراچی کے مسائل کے حل کیلئے ایک بڑا ترقیاتی پیکیج بہترین خبر ہے مگر مستقل حل کیلئے مزید بڑے فیصلے کرنا ہوں گے، کراچی سے متعلق سب سے اہم فیصلہ یہ ہوگا کہ شہر کو چلانا کیسے ہے، کراچی میں گزشتہ ہفتے بلدیاتی حکومت چار سال پورے کر کے ختم ہوچکی ہے، اب کراچی میں ایڈمنسٹریٹر کی تقرری اور پھر نئے انتخابات ہونے ہیں، گزشتہ بلدیاتی نظام میں شکایت نظر آئی کہ میئر کے پاس اختیارات نہیں تھے، کراچی کو چلانے والے اہم محکمے میئر کے ماتحت نہیں تھے، یہ شکایت بھی رہی کہ منتخب میئر کے دائرہ اختیار میں پورا کراچی نہیں ہے بلکہ مختلف کنٹونمنٹس اور ادارے شہر میں انتظامی معاملات دیکھتے ہیں، کراچی کا رہائشی علاقہ 500اسکوائر کلومیٹر ہے جس میں 200کلومیٹر سے زائد علاقہ کنٹونمنٹ بورڈ، ایئرفورس، نیوی، ریلوے ، آرمی، اسٹیل مل، سول ایوی ایشن اور کے پی ٹی کے پاس ہے جہاں کراچی کے منتخب نمائندے کا اختیار نہیں چلتا، کراچی میں اختیارات کی تقسیم کے علاوہ پانی کی فراہمی و نکاسی کے مسائل بھی بہت سنگین ہیں، شہر میں سیکڑوں چھوٹے چھوٹے نالے ہیں لیکن وہ شہر کے 64بڑے نالوں سے جڑے ہوئے نہیں ہیں، کچھ مقامات پر تجاوزات ہیں تو کہیں نالے کچرے کی وجہ سے بند ہوگئے ہیں، کراچی کی متعدد سڑکوں کے ساتھ ڈرینج نہیں بنا ہوا جس کی وجہ سے بارش کے بعد پانی سڑکوں پر جمع ہوجاتا ہے، شہر کے سب سے مہنگے علاقے ڈیفنس کلفٹن میں بھی نکاسی کا موثر نظام موجود نہیں ہے، پاکستان کے سب سے مہنگے علاقے میں نکاسی آب کے ساتھ فراہمی آب کا بھی مسئلہ ہے، شہریوں سے پانی کے پیسے تو لے لیے جاتے ہیں مگر پانی نہیں دیا جاتا، کراچی میں روزانہ 16ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے جس میں صرف 7سے 8ہزار ٹن کچرا اٹھا کر لینڈ فل سائٹ تک پہنچایا جاتا ہے باقی کچرا رہائشی علاقوں میں ہی رہ جاتا ہے، میئر کراچی کو شکایت رہی کہ ان کے پاس کچرا اٹھانے کا بھی اختیار نہیں ہے، سندھ حکومت کا یہ موقف رہا کہ کراچی میں کچرا ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن کا کام ہے جبکہ سندھ حکومت نے ان کی مدد کیلئے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ بنایا ہوا ہے جس سے کراچی کے چھ اضلاع میں سے صرف دو اضلاع نے مدد لی، کراچی میں ایک بڑا مسئلہ پبلک ٹرانسپورٹ کا بھی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.