شرم تم کو مگر نہیں آتی ۔۔۔۔!!!

لاہور (ویب ڈیسک) حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانے کا واقعہ ہے‘ بنی اسرائیل نے کسی غلط کار عورت کو پکڑا اور اسے میدان میں سر عام زندگی سے محروم کرنے لگے‘ حضرت عیسیٰ ؑ وہاں پہنچے‘ لوگوں کو روکا اور فرمایا‘ آپ سب اس عورت کو سزا دیں لیکن آپ میں سے پہلا پتھر وہ پھینکے گا

جس نے آج تک گناہ نہ کیا ہو۔نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔مجمعے میں موجود کوئی ایک بھی شخص آگے نہیں بڑھا‘ لوگ پتھر پھینک کر گھر چلے گئے اور میدان میں صرف وہ خاتون اور حضرت عیسیٰ ؑ رہ گئے‘ آپؑ اس عورت کو ساتھ لے گئے‘ وہ خاتون بعدازاں آپؑ کے حواریوں میں شامل ہوئی اور پارسائی کے اعلیٰ مقام تک پہنچی۔ہم مسلمان ہیں اور نبی رسالتؐ کی ناموس ہمارا ایمان ہے‘ ہم جب تک رسول اللہﷺ کی ناموس کی قسم نہ کھا لیں‘ انھیں آخری پیغمبر نہ مان لیں ہم مسلمان ہو ہی نہیں سکتے اور یہ وہ حقیقت ہے جس سے برے سے برا مسلمان بھی پہلو تہی نہیں کر سکتا لیکن سوال یہ ہے کیا ہم پر صرف رسول اللہﷺ کی ناموس واجب ہے یا پھر ہم نے ان کے فرمودات پربھی عمل کرنا ہے‘ ہم نے صرف ان کا نام لینا ہے یا پھر ہم نے ان کی سنت پر بھی عمل کرنا ہے اور ہم نے صرف ریاست مدینہ کی تسبیح کرنی ہے یا پھر ہم نے نبی رسالتؐ کی منشا کا معاشرہ بھی بنانا ہے؟ہم بھی کمال لوگ ہیں‘ ہم صرف گستاخی کے الزام پر کسی کو بھی سڑک پر سر عام آگ کے حوالے اور راکھ کا ڈھیر کر دیتے ہیں‘ ہم چوری کے الزام میں عورتوں کو سڑکوں پر بے لباس کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی ہم ان تمام جرائم‘ ان تمام گناہوں میں پوری دنیا میں پہلے نمبر پر ہیں اللہ تعالیٰ نے جن کے خاتمے کے لیے رسول اللہ ﷺ کومبعوث فرمایا تھا‘

ہم مغلطات دینے میں دنیا کی چند برترین اقوام میں شامل ہیں‘ بعض لوگ مسجدوں میں بھی ایک دوسرے کو گندی زبان سے پکارتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا اگر فاطمہ بنت محمدؐ بھی چوری کرتی تو اس کو اسکے ہاتھ سے محروم کر دیتا‘کیا ہم اوپر سے لے کر نیچے تک چور نہیں ہیں؟ ہم تو حج اور عمرہ بھی چوری کر لیتے ہیں اور مسجدوں سے ٹونٹیاں اور پنکھے بھی اتار لیتے ہیں اور جوتے بھی غائب کر دیتے ہیں‘ علم مومن کی میراث تھا لیکن کیا ہم کتاب کے جانی دشمن نہیں ہیں؟آپ یونیورسٹیوں میں سروے کرا لیں پروفیسروں کا علم بھی دس پندرہ کتابوں سے زیادہ نہیں ہو گا‘ مجھ سے چند دن قبل انگریزی زبان کے ایک پروفیسر نے رابطہ کیا اور خوش خبری سنائی ’’میں نے ریسرچ سے ثابت کر دیا اہرام مصر حضرت سلیمان ؑ نے جنات کے ذریعے بنائے تھے‘‘ میں نے ان سے پوچھا ’’کیا آپ نے خود اپنی آنکھوں سے اہرام دیکھے ہیں‘‘ ان کا جواب نفی میں تھا‘ میں نے عرض کیا ’’ دنیا میں مصریات (ایجٹالوجی) ایک پوری سائنس ہے‘ اس میں پی ایچ ڈی ہوتی ہے۔دنیا جہاں کے آرکیالوجسٹ اور سائنس دان اس پر ڈیڑھ سو سال سے ریسرچ کر رہے ہیں‘ یہودی‘ عیسائی اور اسلامی دنیا کے اسکالرز بھی ان میں شامل ہیں‘ آپ اگر ریسرچ کرنا چاہتے ہیں تو آپ ان کا حصہ بن جائیں‘ آپ ان کو بھی پڑھ لیں‘ دوسرا لکسر کے محلات (کرناک) حضرت عیسیٰ ؑسے بھی پہلے تعمیر ہوئے تھے‘ آپ وہ دیکھ لیں‘‘

لیکن ان کا اصرار تھا ان کی ریسرچ ان سب پر بھاری ہے اور یہ ہے اس ملک میں علم کی میراث کی صورت حال‘ ہمارے رسولؐ بعثت سے قبل صادق اور امین قرار پائے تھے لیکن ہمارے ملک میں صداقت کی حالت یہ ہے ہم عدالتوں میں قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر جھوٹ بولتے ہیں اوراس جھوٹ کا جج کو بھی علم ہوتا ہے اور دونوں جانب کے وکلاء کو بھی اور پیچھے رہ گئی امانت تو صدر پاکستان عارف علوی نے 29 نومبر2021 کو گورنر ہائوس سندھ میں بیٹے کے کاروبارکی تقریب بھی منعقد کی اور صدارت بھی فرمائی اور ماحولیات کے مشیر امین اسلم گلاسکو کانفرنس میں سرکاری خزانے سے اپنے پورے خاندان کو بزنس کلاس میں سفر کرا کر اسکاٹ لینڈ لے گئے تھے‘ فائیو اسٹار ہوٹلوں میں رہائش اختیار کی مگر کانفرنس میں پاکستان کا کنٹری بیوشن زیرو تھا۔ہمارے اسٹال پر پانچ خالی کرسیوں اور ایک بند ایل سی ڈی کے سوا کچھ نہیں تھا‘ دوسرا پاکستان میں صرف ایک سیاست دان کو عدالت نے صادق اور امین ڈکلیئر کیا‘ اس کا نام عمران خان ہے اور آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے کیا یہ امانت اور صداقت کے کسی بھی معیار پر پورا اترتے ہیں؟۔ہمارے رسولؐ نے پوری زندگی سادگی اختیار کی‘ ہم میں کتنے لوگ سادگی پسند ہیں‘ عاجزی اختیار کی‘ ہم میں کتنے لوگ عاجز ہیں؟ نمودونمائش سے پرہیز کیا ‘ ہم نے میلاد کو بھی نمائش اور نمود کا ذریعہ بنا دیا‘ درگزر اور رحم کو مومن کی شان کہا‘ ہمارے درگزر اور رحم کی گواہی روزانہ ملک کی سڑکیں دے رہی ہیں‘

دینے والے ہاتھ کو لینے والے ہاتھ سے افضل قرار دیا‘ تین سال شعب ابی طالب میں چمڑا ابال کر کھا لیا لیکن ہاتھ نہیں پھیلایالیکن ہمارا پورا ملک بھکاریوں پر مشتمل ہے‘ صدر سے لے کر چپڑاسی تک سب کے ہاتھ پھیلے ہوئے ہیں۔مسجدوں میں بھی چندے کا اعلان ہوتا ہے‘ کم تولنا‘ ملاوٹ کرنا‘ سود کھانا اور بے کسوں کے مال پر قبضہ کرنا یہ اسلام میں کتنے بڑے گناہ ہیں لیکن اس اسلامی جمہوریہ پاکستان کی کوئی ایسی گلی نہیں جس میں کسی نے کسی کی جائیداد یا مال پر قبضہ نہ کیا ہو‘ ہم مسجدیں تک قبضے کی زمین پر بنا دیتے ہیں‘ پورے ملک سے صاف دودھ‘ گوشت‘ دالیں‘ آٹا اور سبزیاں لا کر دکھا دیں‘ دوائیں تک جعلی ملتی ہیں اور بوتل پر اسلامی شہد کا سٹیکر لگا کر جعلی شہد فروخت کیا جاتا ہے۔پورے ملک میں ایک بھی ایسا شہر نہیں جس کا پانی پینے کے قابل ہو‘آپ ایوان صدر کی ٹونٹی سے بھی پانی نہیں پی سکتے‘ آقا اور غلام کو برابر کر دیا تھا لیکن ہمارے ملک میں غلام تو دور آقا بھی گریڈ سے دیکھے اور بٹھائے جاتے ہیں اور اسلام میں اللہ اور بندے کے درمیان کوئی شخص موجود نہیں تھا لیکن ہم نے درمیان میں مولوی بھی ڈالے اور پیر کے اوپر پیر بھی بٹھا دیے اور یہ سب مل کر ہمارا خدا سے رابطہ نہیں ہونے دیتے‘ہم گدھوں اور مُردار جانوروں کا گوشت بیچتے ہیں‘ اسپتال اور ڈاکٹرز تک قصائی ہیں‘ یہ مریضوں کے گردے تک نکال کر بیچ دیتے ہیں‘ مومن کے ہاتھ اور زبان سے مومنین کتنے

محفوظ ہیں آپ روز اس کا مشاہدہ کرتے ہیں‘ شیعہ کے پیچھے سنی اور سنی کے پیچھے دوسرا سنی نماز نہیں پڑھتا‘ اللہ ایک‘ رسول ایک اور قرآن مجید بھی ایک لیکن مسلمان 72 اور یہ بھی ایک دوسرے کی گردن اتارنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں‘ پاکستان کے کسی مدرسے میں اسلام نہیں پڑھایا جاتا مسلک پڑھایا جاتا ہے اور یہ مسلک بھی دوسرے مسلک کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں‘ اللہ کے ٹھیکے دار بھی ہم ہیں۔رسول اللہﷺ بھی صرف اور صرف ہمارے ہیں اور ہم نے صحابہؓ بھی آپس میں بانٹ لیے ہیں لیکن صحابہؓ سے لے کر اللہ تک ہم بات کسی کی بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ مومنین کی فراست کا عالم یہ ہے گستاخی فرانس میں ہوتی ہے لیکن سڑکیں ہم اپنی بند کر دیتے ہیں‘ عمارتیں اپنی جلا دیتے ہیں‘ سڑک پر ایمبولینس تک کو راستہ نہیں دیتے اور ہم عاشق رسول بھی ہیں اور جعلی ویزوں پر یورپ بھی بھاگتے ہیں‘ ہم آخر ہیں کیا اور کیا ہم ان گندے کرتوتوں کے ساتھ فخر انسانیت کا نام لینے کے قابل ہیں‘ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے؟۔ہم درندے ہیں‘ ہماری نظر میں کوئی انسان‘ انسان نہیں‘ ہم صرف سٹیکر پھاڑنے پر انسان کو زندگی سے محروم کرکے آگ کے حوالے کر دیتے ہیں تین تین ہزار لوگ تماشا دیکھتے ہیں‘سیلفیاں بناتے ہیں اور عدنان ملک کے سوا کوئی شخص اسے بچانے کے لیے آگے نہیں بڑھتا‘ کوئی کسی نعرے لگاتے اور ڈنڈے والے شخص کا ہاتھ نہیں روکتا۔ہم دوسرے کی طرف مسکرا کر دیکھنے کے روادار بھی نہیں ہیں لہٰذا آج مسلمان خود کو عیسائیوں اور ہندوئوں کے دیس میں محفوظ سمجھتے ہیں لیکن مسلمانوں کے ملک میں ڈرے رہتے ہیں‘ ہم عورت اور بچوں کو مسجدوں میں بھجواتے ہوئے بھی خوف زدہ رہتے ہیں لیکن ساتھ ہی عشق رسول کے دعوے دار بھی ہیںاور ہمیں ذرا سی شرم بھی نہیں آتی‘ یاد رکھیں اسلام کو عاشقوں کی ضرورت نہیں‘ امتیوں کی ضرورت ہے‘ آپ صرف اور صرف امتی بن جائیں عشق خودبخود آپ پر عاشق ہوجائے گا۔

Comments are closed.