شریف خاندان کے ساتھ آج جو کچھ ہورہا ہے یہ تو ہونا ہی تھا ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) زمانہ قدیم سے انسان زمین میں اور زمین پر جو بھی وسائل ہیں اُن کو اپنے آرام و مفاد کے لئے استعمال کررہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کا دماغ تیز کام کرنے لگا جبکہ اس کی ضروریات بھی بڑھتی گئیں۔ ؎وہ جستجو میں لگ گیا کہ مزید وسائل اور آرام کی چیزیں حاصل کرے۔

نامور پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ شروع شروع میں ترقی کی رفتار بہت سست تھی مثلاً پتھر کے اوزار، پھر دھاتوں کے اوزار اور پھر دھاتوں کے برتن وغیرہ بنانا شروع کر دیے۔ پچھلے دو سو سال میں، خاص طور پر دوسری ورلڈ وار کے بعد دنیا نے، بالخصوص مغربی دنیا نے بےحد ترقی کی ہے۔ تمام ترقی کے کام مغربی ممالک اور جاپان، چین اور ترکی وغیرہ میں ہورہے ہیں جبکہ ہم ایک زرعی ملک ہوکر اور بہترین نہری نظام کے ہوتے ہوئے، گندم، چینی، ٹماٹر، پیاز، لہسن، ادرک، سیب، انگور، آڑو وغیرہ بڑی رقم خرچ کرکے ہر سال منگواتے ہیں۔ دوسرے ممالک میں حکومت کی تبدیلی عموماً عوام کی بہتری کے لئے ہوتی ہے۔ ہمارے یہاں اُلٹا حال ہے۔ نئی حکومت بدانتظامی کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ڈالر 160روپے سے اوپر، گھی، دالیں، چاول، گندم، مصالحہ جات سب کی قیمتیں آسمان سے ٹکرارہی ہیں۔ نیب کا قانون مشرف نے بنایا تھا جب نواز شریف کی حکومت آئی تو بجائے اس کے کہ وہ زرداری سے مل کر اِس بدنام زمانہ سیاہ قانون کو ختم کردیتے وہ اس وہم میں مگن رہے کہ اس کو استعمال کرکے PPPکو ختم کردیں گے۔ دیکھئے بدنیتی ہمیشہ خود کو لوٹ کر تباہ کرتی ہے۔دیکھئے میں کہنا چاہ رہا ہوں کہ ہماری درآمدات، برآمدات سے تقریباً دگنی ہیں۔ میں نے حکمرانوں کو کئی بار مشورہ دیا کہ سائنسدانوں اور انجینئروں اور صنعتکاروں کو بلا کر ان دونوں کی فہرستیں ان کے سامنے رکھیں اور ان سے مشورہ لیں کہ کون کون سی اشیاء بجائے درآمد کرنے کے ملک میں بنائی جا سکتی ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *