شمالی کوریا میں ان دنوں ہر خاص و عام کے ہنسنے پر سرکاری سطح پر پابندی ہے

پیانگ یانگ(ویب ڈیسک) شمالی کوریا کے حکمران کم جونگ ان کے آنجہانی والد کم جونگ اِل کی 10ویں برسی کی تقریبات آج سے شروع ہو رہی ہیں اور اس موقع پر حکومت کی طرف سے مبینہ طور پر شہریوں پر کچھ ایسی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں کہ سن کر آپ کی حیرت کی انتہاءنہ رہے گی۔

ایک ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ریڈیو فری ایشیاءنے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ شمالی کورین حکومت نے اپنے شہریوں پر 11دن کے لیے ہنسنے، شاپنگ کرنے اور مے نوشی پر پابندی عائد کر دی ہے۔ریڈیو فری ایشیاءنے شمالی کوریا کے ایک شہری کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ شمالی کورین حکومت کی طرف سے گیارہ دن کے لیے شہریوں پر ہر اس عمل کی پابندی عائد کی گئی ہے جس سے خوشی کا پہلو نکلتا ہو۔شہری نے ریڈیو کو بتایا کہ کم جونگ اِل کی برسی پر ہر سال ملک میں یہ پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ماضی میں ان پابندیوں کی خلاف ورزی پر کئی لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا اور انہیں عبرتناک سزائیں دی گئیں۔ ان لوگوں کو گرفتار کرکے لیجایا گیا اوراس کے بعد ان میں سے اکثر دوبارہ کبھی نظر نہیں آئے۔ عام طورپر کم جونگ اِل کی برسی پر 10دن سوگ منایا جاتا ہے تاہم اس بار چونکہ ان کی 10ویں برسی ہے لہٰذا 11د ن کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔شہری نے بتایا کہ حتیٰ کہ اگر ان سوگ کے دنوں میں کسی شہری کی موت بھی ہو جاتی ہے تو اس کے لواحقین کو بلند آواز میں رونے کی اجازت بھی نہیں ہوتی اور انتقال کرنے والے کی میت سوگ کے دن ختم ہونے کے بعد ہی باہر لیجائی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ کم جونگ ان کے والد کم جونگ اِل 1994ءسے 2011ءمیں اپنی موت تک شمالی کوریا کے حکمران رہے۔ ان سے اقتدار ان کے بیٹے اور موجودہ حکمران کم جونگ ان کو منتقل ہوا۔