شوقین پاکستانی تھانیدارنی

کوئٹہ (ویب ڈیسک) کوئٹہ میں ایک لیڈی پولیس انسپکٹر کو فرائضمیں غفلت برتنے اور مس کنڈکٹ پر ملازمت سے جبری ریٹائر کردیا گیا۔لیڈی انسپکٹر کی جبری ریٹائرمنٹ سے متعلق جاری آرڈر میں کہا گیا ہے کہ خاتون انسپکٹر نے ریمانڈ کے عرصے میں دوران تفتیش ملزمہ کو بے لباس کرکے

ڈانس پر بھی مجبور کیا گیا تھا۔ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ محمد اظہر اکرم کے ایک حکم نامے کے مطابق لیڈی انسپکٹر شبانہ ارشاد کو انکوائری افسر اے ایس پی پری گل کی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ملازمت سے ریٹائرمنٹ کی سزا دی گئی، جس کے مطابق لیڈی انسپکٹر نے ایک بچے کے 302 کے کیس کی تفتیش کےدوران اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ڈی آئی جی پولیس کے مطابق اس کیس میں نامزد ملزمہ کے خاتون ہونے کی وجہ سے کیس کی تفتیش لیڈی انسپکٹر کےحوالے کی گئی تھی، جس کی تفتیش کے دوران ریمانڈ کے عرصے میں لیڈی انسپکٹر نے غیر پیشہ ورانہ اور غیر اخلاقی رویے کا مظاہرہ کیا۔ لیڈی انسپکٹر ملزمہ خاتون کو کپڑوں کے بغیر ایک سندھی گانے پر ڈانس کرنے پر مجبور کرتی رہی ۔ڈی آئی جی پولیس کے مطابق جبری ریٹائر کی گئی لیڈی انسپکٹر کو ذاتی طور پر پیش ہوکر صفائی کا بھرپور موقع دیا گیا، تاہم وہ اپنے دفاع میں کوئی چیز فراہم نہیں کرسکیں کیس میں نامزد ملزمہ پر جناح ٹاؤن کے علاقے میں ایک بچے کو زندگی سے محروم کرنے کا الزام ہے، ریمانڈ مکمل ہونے پر ملزمہ کو پرزنز بھجوادیا گیا تھا۔مزید تحقیقات و تفتیش جاری ہے ۔