شوکت ترین نے عوام کو تسلی دے دی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) مشیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے‘ عوام تھوڑا اور صبر کریں‘دو چار مہینےکامشکل وقت ہے، یہ ٹھیک ہوجائے گا‘مہنگائی میں جلدکمی آئے گی ‘ معیشت ترقی کررہی ہے ‘ہم درست سمت میں آگے جارہے ہیں‘ منی بجٹ آنے میں ایک ہفتہ

یا 10 دن لگ سکتے ہیں‘ منی بل پہلے ای سی سی پھر کابینہ اور اس کے بعد پارلیمان میں آئے گا‘وفاقی ترقیاتی پروگرام میں 200 ارب روپے کی کٹوتی ہوگی‘گاڑیوں، کمپلیٹیلی بیلٹ یونٹس (سی بی یو) اوردیگرلگژری اشیا پرٹیکس عائد کیا جائیگا‘ جہاں ایف بی آرکی پراپرٹی ویلیوشن حقیقی نہیں ہوگی اس کو درست کیا جائے گا‘نچلاطبقہ دباؤ میں ہے ‘ریلیف دینے کی کوشش کررہے ہیں ‘ عوام کو ریلیف فراہمی میں نجی شعبہ بھی کردار ادا کرے ‘ محصولات میں اضافہ ہورہاہےبجلی اور توانائی کی کھپت بڑھ گئی ہے‘بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ سے افراط زرکی شرح پراثرات مرتب ہوئے، سعودی عرب سے 3 ارب ڈالرکی معاونت آرہی ہے، پاکستان نے سکوک میں ادائیگیاں کی ہیں، ٹیکس کو معقول اور بینکنگ کے دائرہ کارمیں توسیع لانا ہوگی‘آئی ایم ایف ہدف پرمبنی سبسڈیز کی ضرورت پرزوردے رہاہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔واضح رہے کہ اس سے قبل شوکت ترین نے دو بار کہاتھاکہ کوئی منی بجٹ نہیں آئے گا۔پریس کانفرنس میں مشیرخزانہ نے کہاکہ بین الاقوامی منڈیوں میں ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کے اثرات پاکستان پربھی مرتب ہورہے ہیں تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں اشیائے خوراک کی قیمتیں عالمی منڈی کے مقابلے میں کم ہیں عالمی مارکیٹ میں ایل این جی، دھاتوں، خوردنی تیل اورخام مال کی قیمتیں بڑھی ہیں اس کے نتیجہ میں پاکستان میں افراط زر اوردرآمدی بل پراثرات مرتب ہوئے‘ مشیرخزانہ نے کہاکہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کم ہورہی ہے، اس سے ایل این جی کی قیمتوں کازوربھی ٹوٹ جائیگا، کوئلہ کی قیمت میں بھی کمی آرہی ہے، خوردنی تیل کی قیمت میں جنوری کے بعد سے فرق آنا شروع ہوجائیگا۔مشیرخزانہ کا کہناتھا کہ محصولات میں 36 فیصد کانمایاں اضافہ ہوا ہے ، انکم ٹیکس کی وصولی میں 37 فیصد کی بڑھوتری ہوئی ہے، اس سے ظاہرہورہاہے کہ پاکستان کی معیشت مضبوط ہورہی ہے‘جہاں تک تجارتی خسارہ اورافراط زرکا تعلق ہے تووہ بھارت اوردیگرپڑوسی ممالک میں بھی زیادہ ہے۔جب بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں میں کمی آئیگی توپاکستان میں بھی اس سے فرق پڑے گا۔شوکت ترین نے کہاکہ شہری لوئیرمڈل کلاس کی مشکلات کا حکومت کوبخوبی علم ہے، شہری لوئیرمڈل کلاس کو ریلیف فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔اس سال ہم نے 450 ملین ڈالرکافرنس آئل درآمد کیا گیا تاہم مزیدفرنس آئل کی درآمدنہیں ہوگی۔انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف نے حکومت سے یہ نہیں کہاہے کہ ریلیف مت دیں۔